خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 131

خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء روحانیت سے کوئی تعلق نہیں ان میں پڑنے کا فائدہ کیا ہے۔میں نے اپنی جماعت میں ہی اس کا تجربہ کیا ہے۔مولوی عمرالدین صاحب شملوی جنہیں مباحثہ پسند طبائع رکھنے والے لوگ خوب جانتے ہیں اور جو بعض اوقات ہماری طرف سے مباحثات کیا کرتے تھے، ان کے متعلق میں ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ ان کا انجام مجھے اچھا نظر نہیں آتا۔وہ ہمیشہ ایسی باتوں میں وقت ضائع کرتے رہتے تھے جن کا انسانی زندگی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔مثلاً یہ کہ خدا نے انسان کو کیسے پیدا کیا ازلیت کے کیا معنی ہیں، خدا اور مادہ کا کیا تعلق ہے۔میں ہمیشہ ان کو سمجھاتا تھا کہ جن باتوں کو سمجھنے کی آپ میں قابلیت نہیں ان میں پڑنے کا کیا فائدہ ہے تمہارا ان باتوں سے کیا تعلق ہے تمہیں تو صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ تمہارے ساتھ خدا کا معاملہ کیا ہے۔مادہ کہاں سے آیا اس تمہیں کیا مطلب۔آخر ایک وقت آگیا کہ ان کو ٹھوکر لگی اور ایسے امر میں لگی کہ درس مذہبی روح رکھنے والے شخص کو ہر گز نہیں لگ سکتی تھی اور اب وہی مسائل جن پر کبھی وہ۔درست ہماری طرف سے مباحثات کیا کرتے تھے، ان میں ہم سے بحثیں کرتے ہیں حالانکہ آخر وقت تک وہ یہ اقرار کرتے رہے ہیں کہ گو میرے مباہلہ والوں سے تعلقات ہیں مگر جب میں جماعت احمدیہ سے مسائل میں پورا پورا اتفاق رکھتا ہوں اور ان کو اچھی طرح سمجھتا ہوں تو مجدا کیسے ہو سکتا ہوں۔مگر ان کی اس قسم کی باتیں اس امر کا ثبوت تھیں کہ انہوں نے جو کچھ سمجھا تھا، عقلی طور پر سمجھا تھا روحانی طور پر کچھ حاصل نہیں کیا تھا، اسی وجہ سے آخر ٹھوکر کھا گئے۔پس تبلیغ کا حقیقی طریق یہی ہے کہ وہ نشان جو زندہ خدا نے ظاہر کئے انہیں اپنی زندگیوں میں اور مخالفوں کی زندگیوں میں دکھائیں اور اس طرح جو شخص سلسلہ میں داخل ہوگا اس کے اندر خدا تعالیٰ کی محبت کی آگ سلگ جائے گی اور باوجود کمزوریاں رکھنے کے وہ خدا کا مقرب ہو جائے گا۔اس کی مثال ایسے بیمار کی سی ہوگی جو تندرستی کی طرف آرہا ہو۔جب بیماری گھٹنے لگتی ہے تو اگرچہ تکلیف موجود ہوتی ہے مگر بیمار صحت کی طرف آرہا ہوتا ہے اور اس لئے وہ تندرست کہلا سکتا ہے۔اس کے برعکس جو شخص بظاہر تندرست نظر آئے مگر بہ باطن اس کے اندر بیماری کے جراثیم پیدا ہو چکے ہوں جو چند گھنٹوں یا چند دنوں میں اسے بیمار کردینے والے ہوں، وہ دراصل بیمار ہے کیونکہ جو بیمار نظر آتا ہے اس کے اندر تندرستی کا مادہ پیدا ہو چکا ہے اور جو تندرست دکھائی دیتا ہے، اس کے اندر بیماری کے جراثیم پیدا ہو چکے