خطبات محمود (جلد 15) — Page 130
خطبات محمود ١٣٠ سال ۱۹۳۴ء طریق یہی ہے کہ تربیت ساتھ ساتھ ہوتی جائے۔وہ زندہ خدا کو پیش کرتے ہیں، زمین و آسمان میں اس کی قدرتیں، اپنے اور خود زیر تبلیغ لوگوں کے نفوس میں اس کی قدرت کے کرشمے دکھاتے ہیں، جنہیں دیکھ لینے کے بعد کس طرح ممکن ہے کہ نفس اسی مقام پر رہ سکے جہاں وہ پہلے تھا۔اس کے اندر یہ تڑپ پیدا ہو جاتی ہے کہ خدا سے ملوں اور اس طرح داخل ہونے والا کبھی غافل نہیں رہ سکتا۔ایسا مجرک اس کے اندر پیدا ہو جاتا ہے جو کبھی اسے لا پرواہ ہونے نہیں دیتا۔جس طرح وہ ماں جس کا بچہ کھو گیا ہو یا وہ بچہ جو اپنی ماں سے جدا ہو گیا ہو نیند آنے پر وہ بھی سوتے اور بھوک لگنے پر وہ بھی کھاتے ہیں مگر دنیا کی لذتیں انہیں ایک دوسرے کی محبت سے ہمیشہ کیلئے غافل نہیں کر سکتیں اور غالب خیال ان کے دل میں دوسرے سے ملنے کا ہوتا ہے۔اسی طرح جب خدا کے فضلوں کا مشاہدہ کر کے انسان اسے قبول کرتا ہے تو چاہے وہ دنیا کے کام کرے مگر پھر بھی ہمیشہ اس کے دل میں یہی خیال غالب گا کہ ایک منزلِ مقصود ہے جس کیلئے میں سفر کر رہا ہوں اور ایک مقصد ہے جسے حاصل کرنے کیلئے لگا ہوا ہوں۔یہ آگ جب لگتی ہے تو خود بخود اصلاح کر دیتی ہے۔دنیا میں دو ہی طریق کسی چیز کے بنانے کے ہیں، ایک گھڑ کر دوسرے پگھلا کر ، پکھلا کر سانچے میں ڈھالنے سے بھی اور ہتھوڑے سے کوٹ کر بھی چیزیں بنائی جاتی ہیں۔محبتِ الہی کے ذریعہ جو اصلاح وہ پگھلا کر ڈالنے کی طرح ہوتی ہے۔اور اعمال کی درستی کرکے جو اصلاح کی جائے وہ ایسی ہے جیسے ریتی سے رگڑ رگڑ کر یا ہتھوڑے سے کوٹ کوٹ کر کوئی چیز بنائی جائے اور بیشک اس طرح اصلاح ہو جاتی ہے لیکن اس کیلئے لمبا عرصہ درکار ہوتا ہے لیکن جس طرح پگھلا کر ایک رہے ہو وہ ہے سیکنڈ میں چیز تیار کی جاسکتی ہے، اسی طرح محبت الہی کے ذریعہ اصلاح کا طریق فوری ہوتا۔اور اس میں تبلیغ اور تربیت دونوں چیزیں شامل ہوتی ہیں اس لئے انبیاء تبلیغ پر ہمیشہ زور دیتے ہیں۔نادان اس پر اعتراض بھی کرتے ہیں کہ اپنی شہرت چاہتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ طریق یہی ہے۔اس لئے اگر ہم تبلیغ پر زور دیتے ہیں تو ایک طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اتباع کرتے ہیں اور دوسری طرف اپنے نفسوں کی اور دوسروں کی اصلاح ہمارے مد نظر ہوتی ہے۔یہ بحثیں کہ زمانہ کیا ہے ، مقام کیا ہے، سب لغو اور فضول بحثیں ہیں۔ان میں پڑنے کے بغیر ہر شخص جانتا ہے کہ میں وہاں گیا تھا یا وہاں جاؤں گا اور فلاں وقت جاؤں گا پس کون ہے جو زمانہ اور مقام سے واقف نہیں اور جن تفصیلات کا