خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 129

خطبات محمود ۱۲۹ سال ۱۹۳۴ء تزکیۂ نفس کا سبب نہیں بن سکتیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا لیکچر لاہور جو حضرت خلیفہ اول نے پڑھا تھا، اس میں آپ نے اس مضمون پر بحث کی ہے کہ کوئی اپنے بچے سے محبت کرنے سے قبل یہ معلوم نہیں کیا کرتا کہ اس کا دل یا جگر کہاں ہے۔کہاں ہے، کیا اسے اپنا بچہ تسلیم کرنے سے قبل ان باتوں کو معلوم کرنا ضروری سمجھا کرتا ہے یا جس وقت بچہ کو اس کے سامنے لایا جائے وہ بغیر ایسی تفصیلات معلوم کرنے کے اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہے۔پھر ان بحثوں میں پڑنے کا کیا مطلب کہ خدا نے کس طرح انسان کو پیدا کیا اس کی ازلیت و ابدیت کا کیا مطلب ہے، جب یہ معلوم ہو گیا کہ وہ دنیا کا خالق ہے تو یہ سوالات بے معنی ہیں جو غیریت پر دلالت کرتے ہیں۔جہاں قرب ہو وہاں ایسے سوال پیدا ہی نہیں ہو سکتے۔اس طرح انسان تمام لغو بحثوں سے بچ جاتا اور ایسا رستہ اختیار کر سکتا ہے کہ جس سے نہ صرف اس کی عقل و فکر تسلی پالیتی ہے بلکہ شعور اور رحسّ میں بھی تقویت حاصل ہو جاتی ہے اور اس کے اندر نیک تغیر پیدا ہو جاتا ہے۔ایسا تغیر جو اصلاح کرکے اسے خدا تعالی کے قریب کرنے والا ہوتا ہے۔یہی طریق ہے جو تمام انبیاء کا ہے یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اختیار کیا اور یہی ہے جو دنیا میں کامیابی کی راہ پر چلاتا ہے۔پس جو لوگ خیال کرتے ہیں کہ انبیاء کا کام تربیت کرنا ہوتا ہے، وہ غلطی پر ہیں۔ہماری جماعت کے بھی بعض دوست اس خیال کے ہیں کہ ہمیں تبلیغ سے زیادہ تربیت پر زور دینا چاہیے، حالانکہ اس تبلیغ کے ساتھ ہی تربیت ہوتی ہے۔جب ہم لوگوں کے سامنے زندہ خدا بولنے اور سننے والا خدا اور روزمرہ کے معاملات میں دخل دینے والا خدا پیش کرتے ہیں تو اس کے ساتھ ہی تربیت بھی ہوتی جاتی ہے۔ہاں انسانوں میں نقائص اور کمزوریاں ہوتی ہیں مگر وہ عدم تربیت پر دلالت نہیں کرتیں بلکہ وہ تکمیل کے پہلو ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوتے اور ہمیشہ جاری رہتے ہیں۔اصل چیز یہی ہے کہ ایسی اصلاح کی جائے کہ خدا کی محبت دل میں پیدا ہو جائے اور جب یہ پیدا ہو جائے تو کمزوریاں آہستہ آہستہ خود بخود دور ہوتی چلی جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیشہ تبلیغ پر زور دیتے تھے۔ڈاکٹر عبدالحکیم نے اعتراض بھی کیا آپ جماعت بڑھانے کی طرف متوجہ رہتے ہیں اور تربیت پر زور نہیں دیتے۔آپ نے اس بات کو تسلیم نہ کیا بلکہ اسے کہا کہ تمہاری روحانی نظر کمزور ہے۔ہر شخص جو میرے ذریعہ جماعت میں داخل ہوتا ہے، اس کی تربیت ساتھ ہی ہونی شروع ہو جاتی ہے۔تو انبیاء کی تبلیغ کا