خطبات محمود (جلد 15) — Page 115
خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء کیلئے بھی انسان اگر اعتقادات کی درستی نہ کرے یا ایک لمحہ کیلئے بھی اس سے غافل ہو جائے تو اس کی روح مرجاتی ہے۔پانی اور کھانے کی طرح جو غذائیں ہیں وہ انسانی اعمال ہیں کہ ان میں وقفہ بھی ہو سکتا ہے گو لمبا نہیں ہو سکتا مگر بہر حال اگر کچھ دیر تک انسان ان کے بغیر گزارہ بھی کر سکے تب بھی جلد جلد عرصہ میں ان کی ضرورت پیش آجاتی ہے۔ہاں یہ درست ہے کہ اگر یہ غذا جلد جلد نہ ملے تو انسانی روح کی فوری ہلاکت نہیں ہو جاتی بلکہ کمزور ہو جاتی ہے۔سانس کے نہ آنے سے تو فوری ہلاکت ہو جاتی ہے مگر غذا کے نہ ملنے سے فوری ہلاکت واقع نہیں ہوتی جیسا کہ انسان بعض دفعہ کئی دن کا فاقہ کرلیتا ہے مگر ہلاک نہیں ہوتا ، ہاں کمزوری ضرور ہو جاتی ہے۔اسی طرح اعمال کے وقفہ کی وجہ سے بھی کمزوری آجاتی ہے اور گو یہ وقفہ برداشت کیا جاسکتا ہے مگر چونکہ ساتھ ساتھ کمزوری بھی ہوتی جاتی ہے اس لئے ہر لحظہ انسان موت کے قریب ہوتا جاتا ہے۔پس سب سے مقدم انسان کیلئے یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے اعتقادات اور اللہ تعالی پر یقین درست رکھے لیکن دنیا میں عام طور پر انسانوں میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ ایک یا دوسری غذا کو بالکل چھوڑ دیتے ہیں۔کئی ہیں جو اعمال پر زور دیتے ہیں جیسے یورپین قومیں ہیں وہ کہتی ہیں کہ عقائد سے کیا بنتا ہے۔اصل چیز کام کرنا ہے انسان کو چاہیے کہ وہ لوگوں سے حسن سلوک کرے، ان سے محبت اور پیار سے پیش آئے ، ہمد روی اور مؤاسات کا رویہ اختیار کرے اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو اعمال کو نظر انداز کر دیتے ہیں جیسے اس وقت مسلمانوں کی حالت ہے۔وہ کہتے ہیں جب ہم خدا پر ایمان لے آئے، رسول کریم ﷺ کی صداقت کو تسلیم کرلیا، تو پھر ہمیں کسی چیز کی کیا ضرورت ہے۔مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ له - ان کا سارا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ ہم نے لا اله الا اللہ کہہ دیا اب ہمارے اسلام میں کیا نقص رہا؟ مجھے تعجب آتا ہے ان لوگوں پر جو اسلام کو محصور کرنا چاہتے ہیں خالی عقائد کے ساتھ، حالانکہ عقیدہ بغیر اعمال کے کبھی زندہ رہ نہیں سکتا۔عقیدہ کی مثال درخت کی سی ہے اور اعمال کی مثال پانی کی سی۔اس میں شبہ نہیں کہ عقیدہ سانس کی طرح ہوتا ہے اور اگر اس میں ذرا سا بھی رخنہ پیدا ہو جائے تو روحانی ہلاکت واقع ہو جاتی ہے مگر اس میں بھی شبہ نہیں کہ کھانا کھانے کے بغیر سانس بھی نہیں چلتا۔پس در حقیقت انسان کو دونوں طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔جس طرح کوئی انسان نہیں کہہ سکتا کہ میں نے کھانا کھا لیا ہے اب سانس