خطبات محمود (جلد 15) — Page 116
خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء آئے یا نہ آئے یا سانس جب آتا ہے تو کھانا کھانے کی کیا ضرورت ہے اور اگر کوئی یہ کہے تو وہ بیوقوف اور جاہل سمجھا جاتا ہے۔اسی طرح تکمیل ایمان کیلئے انسان کو ہمیشہ عقیدہ کی درستی اور اعمال کی صحت کا خیال رکھنا چاہیے۔بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی نظر صرف ایک طرف ہوتی ہے اور دوسری طرف ان کی نگاہ نہیں اُٹھتی۔بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ ہم نمازیں پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، چندے دیتے ہیں مگر روحانیت میں ترقی نہیں ہوتی۔انہیں غور کرنا چاہیے اور دیکھنا چاہیئے کہ یا تو ان کے اعمال میں نقص ہے یا عقائد میں۔یا تو اللہ تعالیٰ کی ذات پر جیسا یقین کامل ہونا چاہیے اور انسان کو سمجھنا چاہیے کہ وہ خدا کو حاضر ناظر جانے اس عقیدہ میں نقص ہوگا۔یا اگر عقیدہ درست ہو گا تو اعمال میں نقص ہوگا۔جس کی وجہ پانی اس کی روحانیت کے درخت تک نہیں پہنچ سکتا۔پس مومن کو اپنی روح کی درستی کیلئے ضروری ہے کہ اپنے عقائد پر نظر رکھے نیز اپنے اعمال کی بھی نگہداشت کرے اور یہ چیز محاسبہ سے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔انسان اگر اپنے نفس کا محاسبہ کرے تو اسے اپنے بہت سے عیبوں کا پتہ لگ جاتا ہے اور بعض دفعہ ایسے باریک در باریک عیب نظر آجاتے ہیں کہ غلطی سے بعض دفعہ انسان جسے قوتِ ایمانیہ سمجھ رہا ہوتا ہے، وہی ضعف ایمان کا موجب ہوتی ہے۔کل ہی مجھے اس بات کا مشاہدہ کرنا پڑا۔ایک دوست مجھ سے ملنے کیلئے آئے اور کہنے لگے مجھے فلاں فلاں ابتلاء آیا ہے۔میرا بڑا ہی مضبوط ایمان تھا کہ میں ثابت قدم رہا ورنہ کوئی اور ہوتا تو مرتد ہو جاتا۔میں نے کہا یہی آپ کی کمزوری ایمان کا ثبوت ہے کہ آپ ایک معمولی بات کو اپنے ایمان کی مضبوطی کا ثبوت سمجھ رہے ہیں حالانکہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں ادنی سے اونی بشاشت ایمان بھی جب کسی مومن میں پیدا ہو جاتی ہے تو خواہ اسے آگ کے اندر داخل کردیا جائے تو بھی وہ ایمان سے متزلزل نہیں ہوتا ہے۔جب یہ ادنی بشاشت ایمان ہے تو اعلی بشاشت ایمان خود سمجھ لو کہ کیا چیز ہو سکتی ہے۔غرض کئی دفعہ انسان سمجھتا ہے کہ فلاں چیز اس کی قوت کا موجب ہے حالانکہ وہ عدم تدبر کا ثبوت ہوتا ہے اور اگر وہ غور کرے تو اسے معلوم ہو کہ وہی چیز اس کی کمزوری کا موجب بنتی ہے۔ایک دفعہ رسول کریم ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور آکر کہنے لگا۔یا رسول اللہ ! آپ مجھے ہر چیز سے زیادہ پیارے ہیں یہاں تک کہ میں آپ کو جان کی طرح عزیز سمجھتا ہوں۔آپ نے فرمایا یہ کوئی اعلیٰ ایمان نہیں جب تک کہ تم مجھے اپنی جان سے بڑھ پر