خطبات محمود (جلد 15) — Page 108
خطبات محمود HA سال ۱۹۳۴ء متعلق عقلاً یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان پر قبض کی حالت آئے تو ان کو معلوم ہی نہ ہو کہ یہ کیا بات ہے اور اس حالت کے کیا اغراض و مقاصد اور فوائد ہیں۔وہ اگر جانے کے خیال سے ہے مایوسی کا شکار ہو جائیں اور اعمال کی کشمکش کشمکش سے کنارہ کش ہو جائیں۔لیکن جب قرآن کریم ہم کو یہ بتادیا کہ بتادیا کہ ہر بسط کے ساتھ قبض ہوتی ہے اور انسانی اعمال اپنے اندر وائبریشن (VIBRATION) رکھتے ہیں، ان کے اندر لہریں پیدا ہوتی ہیں اور لہر کے معنی اونچے نیچے ہونے کے ہیں تو یہ جانتے ہوئے ہم مایوسی کا شکار نہیں ہو سکتے۔آج اس زمانہ میں دنیا نے اس صداقت کو تسلیم کرلیا ہے کہ انسانی اعمال میں لہریں ہوتی ہیں بلکہ دنیا میں ہر چیز کے اندر اصل موجود ہے۔انسان کی بصارت اور شنوائی میں بھی لہریں ہوتی ہیں۔جس طرح آواز سے پیدا شدہ لہریں ہوا میں تیرتی ہیں، جس طرح نظر کی لہریں ہوا میں تیرتی ہیں، اسی طرح انسانی روح بھی خدا کی طرف لہروں میں پرواز کرتی ہے۔مگر بوجہ اس کے کہ پرواز اوپر کی طرف ہوتی ہے، ہر قبض پہلی سے کم اور ہر بسط پہلی سے زیادہ آتی ہے۔اس کی طرف قرآن کریم میں اشارہ کیا گیا ہے اور جہاں اللہ تعالٰی کا ذکر ہے، وہاں اسے بلندی کی طرف منسوب کیا گیا حالانکہ اللہ تعالیٰ کو کسی خاص مقام سے کوئی تعلق نہیں۔یہ نہیں کہ وہ ہمارے سروں کی طرف ہے، ہمارے پاؤں کی طرف اس کی حکومت نہیں۔اگر ایسا ہو تو جس طرف ہمارے سر ہیں، اسی طرف اور لوگوں کے پاؤں ہوں گے۔اگر یہ صحیح ہے کہ زمین گول ہے تو یہ بھی صحیح ہے کہ جدھر ایک طرف کے رہنے والوں کے سر ہیں، دوسری طرف رہنے والوں کے اسی طرف پاؤں ہوں گے۔پس اگر اوپر کے معنی سروں کی طرف کے لئے جائیں تو کیا یہ نہ کہا جاسکے گا کہ وہ امریکہ والوں کے پاؤں کی طرف ہے۔اللہ تعالیٰ کی بلندی کی طرف بتانے کے یہی معنی ہیں کہ جو انسان خدا کی طرف پرواز کرتا ہے، وہ بلند ہوتا جاتا ہے۔اس کی ہر قبض پہلی سے کم اور ہر بسط پہلی سے زیادہ ہوتی ہے۔ایک انسان اگر زمین سے ایک گز اوپر ہو اور پھر دوگر اوپر ہو جائے تو مانا پڑے گا کہ گو وہ بلندی کی چوٹی تک نہیں پہنچا تاہم اس کی حالت پہلے سے ضرور بلند ہے۔پس قبض اور بسط کے بتانے سے ایک فائدہ تو یہ ہوا کہ اس سے سے انسان اپنے نفس کا محاسبہ کر سکتا ہے۔وہ قبض کی حالت سے گھبراتا نہیں کیونکہ وہ جانتا ہے کہ حالت تو آتی ہی ہے۔جو لوگ تیرنا جانتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ ہر ہاتھ مارنے سے پہلے جسم کسی قدر اونچا ہوتا ہے مگر ایک ہاتھ مارنے کے بعد دوسرا ہاتھ مارنے تک پھر ذرا نیچے چلا جاتا۔