خطبات محمود (جلد 15) — Page 88
سال ۱۹۳۴ء خطبات محمود AA نہیں خدا تعالی کے پاس ہونی چاہیے کیونکہ وہی سب سے بہتر اپیل کی جگہ ہے۔کیونکہ بسا اوقات ایک رات کی درد کی دعا بھی دنیا کا تختہ اُلٹ دیتی ہے۔ایک بزرگ کے متعلق مشہور ہے، ان کا ایک امیر ہمسایہ رات بھر گانے بجانے میں مشغول رہتا جس سے محلے والوں کو سخت تکلیف ہوتی انہوں نے اسے سمجھایا تم گاتے بجاتے ہو اور محلے والوں کو سخت تکلیف ہوتی ہے، اس طرح نہ کیا کرو۔وہ امیر چونکہ بادشاہِ وقت کا مقرب تھا، اس لئے اس نے پرواہ نہ نہ کی اور دروازے پر سپاہی مقرر کر دیئے تا گانے بجانے میں کوئی شخص مزاحمت نہ کر سکے۔اس بزرگ نے پھر جو سمجھایا تو امیر نے کہا بادشاہ کے یہ سپاہی موجود ہیں۔اگر آپ نے اور کچھ کہا تو یہ آپ کو یہاں سے نکال دیں گے۔اس نے کہا اگر تمہارے پاس سپاہی موجود ہیں تو میرے پاس بھی وہ تیر ہیں جن کا تم مقابلہ نہیں کر سکتے۔اس نے پوچھا وہ کون سے۔وہ کہنے لگے سِهَامُ الليل یعنی رات کی دعاؤں کے تیر- اس بات کا اُس پر اتنا اثر ہوا کہ اُس نے اُسی وقت گانے بجانے کا سامان توڑ دیا اور روپڑا اور کہنے لگا اِن تیروں کا مقابلہ مجھ سے ہو سکتا۔پس تمہارے پاس بھی سب سے بڑا ہتھیار دعا ہے۔اس سے کام لو اور ان مسلمانوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو جہاد جہاد کہتے ہیں مگر کرتے نہیں۔ایسا نہ ہو کہ تم بھی دعا دعا کہتے رہو اور کرو نہیں۔پس جاؤ اور ان لوگوں کو تبلیغ کرو۔جاؤ اور ان کیلئے دعائیں کرو۔ان دونوں ہتھیاروں سے اگر کام لو گے تو دنیا کے تمام مخالفوں کو کچل دوگے، بڑوں کو بھی اور چھوٹوں کو بھی، حکومت کو بھی اور رعایا کو بھی اور یہی شاندار فتح ہوگی۔بے شک تلوار کے ذریعہ فتح کرنا بھی ایک فتح ہے مگر وہ فتح ادنیٰ قسم کی ہے۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں چونکہ ایسے حالات پیدا ہو گئے تھے جن کے ماتحت تلوار اُٹھانا ضروری تھا اس لئے صحابہ نے تلوار اُٹھائی۔ورنہ صحابہ جب جنگ کو جاتے تو اس طرح اسے ناپسند کرتے ہوئے جاتے جس طرح موت کو ناپسند کیا جاتا ہے۔اور اگر حالات مجبور نہ کرتے تو کیا تم سمجھتے ہو حضرت ابوبکر " حضرت عمر " تلوار اُٹھا سکتے۔ان چیزوں کا تو خیال کرنے سے بھی مومن کے جسم پر رعشہ طاری ہو جاتا ہے کیونکہ مومن اور نقصان جمع نہیں ہو سکتے۔مومن خدا تعالیٰ نے دنیا کے فائدہ کیلئے بنایا ہے اور بچپن سے بڑھاپے بلکہ مرتے دم تک اس کے دل و دماغ پر یہی خیال حاوی رہتا ہے کہ وہ مخلوق کو فائدہ پہنچائے۔یہی روح ہے جو فتح دیتی ہے اور یہی اصل فتح ہے جس کی وجہ سے رسول کریم اور آپ کے صحابہ سب انبیاء اور ان کی جماعتوں سے بڑھ گئے۔کفار