خطبات محمود (جلد 15) — Page 89
خطبات محمود ۸۹ سال ۱۹۳۴ء آپ کی تلوار کی فتوحات سے دعاؤں اور قربانیوں کی فتوحات بہت زیادہ شاندار تھیں ورنہ ظاہری فتح ایسی پائیدار نہیں ہوتی۔انگریزوں کو دیکھو۔اس وقت تک لاکھوں فوائد ہیں جو انگریزی حکومت کی وجہ سے ہندوستانیوں کو پہنچ چکے ہیں اور سوائے ہندوستان کے ایشیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جس نے اتنے قلیل عرصہ میں اسقدر حیرت انگیز ترقی کی ہو۔ایران، عرب افغانستان سب آزاد حکومتیں ہیں مگر دنیوی ترقی انہوں نے اتنی نہیں کی جتنی ہندوستان نے انگریزوں کے ماتحت کی ہے۔مگر باوجود اس کے کہ انگریزوں کی وجہ سے ہندوستانیوں کو بہت فوائد پہنچے ، آج تعلیم یافتہ طبقہ میں سے سو میں سے نانوے انگریزوں کے خون کے پیاسے ہیں کھلم کھلا انارکسٹوں کی تعریف نہیں کر سکتے تو گھر بیٹھ کر اپنی مجالس میں انہیں ضرور سراہتے اور ان کے کاموں کی تعریف کرتے ہیں بلکہ ہندوستانی سرکاری ملازموں میں سے جن کا کام امن کا قیام اور حکومت سے تعاون ہے نانوے فیصدی انگریزوں کے دشمن ہیں۔اس کے مقابلہ میں محمد اللہ نے بھی دنیا کو فتح کیا مگر وہ فتح کیسی نمایاں ہے۔حضرت عمرو بن العاص جب وفات پانے لگے تو اُس وقت انہوں نے بتایا کہ ایک زمانہ مجھ پر ایسا گزرا ہے جب کہ وہ ނ میں محمد ﷺ کو روئے زمین پر سب سے زیادہ بُرا شخص تصور کرتا اور اس بغض کی وجہ۔میں نے کبھی آپ کو آنکھ اُٹھا کر نہ دیکھا۔پھر اللہ تعالیٰ نے میرے دل کو کھول دیا اور مجھے ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائی اس کے بعد مجھے رسول کریم ﷺ سے اتنی گہری محبت ہو گئی کہ میں فرط عشق کی وجہ سے آپ کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھ سکتا۔گویا کفر کی حالت میں اتنا تھا کہ میں نے آپ کو اچھی طرح نہ دیکھا اور ایمان کی حالت میں عشق ایسا تھا کہ اس کی وجہ سے میں آپ کو نہ دیکھ سکا اس لئے آج اگر کوئی شخص مجھ سے رسول کریم کا حلیہ دریافت کرے تو میں بتانے سے قاصر ہوں نے۔یہ کتنی بڑی قلوب کی فتح ہے۔اس فتح کے مقابلہ میں تلوار کی فتح کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔جب مخالف دیکھتا ہے کہ یہ لوگ شفقت و محبت سے پیش آتے ہیں تو آخر وہ شرمندہ ہو جاتے ہیں۔پس اگر حقیقی فتح چاہتے ہو تو طریق اختیار کرو۔اس کے بعد خواہ کوئی حاکم بھی ہو دراصل تمہارا محکوم ہو گا کیونکہ جب اللہ تعالی دلوں کو بدل دیتا ہے تو حاکم بھی غلاموں کی طرح ہو جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر جب قتل کا مقدمہ ہوا تو وہی انگریز ڈپٹی کمشنر جس نے ایک دفعہ کہا تھا کہ اس مدعی مسیحیت کو ابھی