خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 81

خطبات محمود Al سال ۱۹۳۴ء انہوں وہ غیر مسلم مستورات سے مل کر ان میں کوئی تبلیغی کام کر سکیں۔اسی سلسلہ میں گزشتہ ایام میں ایک استانی کی ضرورت تھی۔اور میں نے بعض لوگوں کو تلاش کیلئے کہا ہوا تھا۔ایک صاحب نے آگے اپنے کسی ہندو دوست کو کہا تھا۔یہ صاحب لاہور چھاؤنی میں اوورسیئر ہیں۔نے اس احمدی کو لکھا کہ ایک تعلیم یافتہ بیوہ عورت لاہور میں آئی ہوئی ہے اگر استانی کی ضرورت ہو تو اسے رکھ لیا جائے۔میں اتفاقاً اپنی بڑی بیوی کو لینے فیروز پور جا رہا تھا۔ساتھ میری دوسری بیوی اور ایک لڑکی تھیں۔میں نے انہیں کہا کہ تم لوگ استانی کو دیکھ لو اگر قابل ہو تو اسے رکھ لیا جائے۔چونکہ جس ہوٹل میں وہ رہتی تھی وہ راستہ میں تھا اور ان لوگوں نے ناشتہ بھی نہ کیا ہوا تھا، تجویز یہی ہوئی کہ ہوٹل میں پردہ کا انتظام کر کے اس عورت سے وہ مل بھی لیں اور ناشتہ بھی کرلیں۔چنانچہ وہاں انہوں نے اس سے مل کر باتیں کیں اور وہ عورت بطور استانی جانے کیلئے رضامند ہو گئی اور اس نے کہا کہ جب آپ قادیان جائیں مجھے لیتے جائیں۔مگر میں نے بعد میں اس خیال سے کہ یہ بچوں والی استانی ہے، اسے بچوں کی تعلیم کا خیال ہوگا اور قادیان چھوٹی جگہ ہے، وہاں اس کے بچوں کے دل لگنے کا بھی سوال ہو گا اسے کہلا بھیجا کہ بہتر ہے تم قادیان چند گھنٹوں کیلئے دیکھ آؤ۔اگر تم سمجھو کہ وہاں تم کو اور تمہارے بچوں کو تکلیف نہ ہوگی تو پھر کام پر آجانا۔چنانچہ اس نے اس تجویز کو پسند کر لیا اور قادیان آتے ہوئے اس موٹر میں بیٹھ کر جس میں دفتر کے آدمی تھے ، پچھلی سیٹوں پر میری ایک لڑکی سمیت وہ قادیان آئی اور قادیان دیکھنے کے بعد بچوں کی تعلیم کے حرج کا خیال کر کے اس نے یہ تجویز کی کہ اگر بچے لاہور سکول میں داخل ہو سکیں تو میں آجاؤں گی۔چنانچہ چند گھنٹے یہاں رہ کر وہ واپس چلی گئی۔اور غالبا بچوں کی وقت کی وجہ سے پھر نہیں آئی۔یہ وہ واقعہ ہے جسے زمیندار نے اس رنگ میں شائع کیا ہے جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔اسی طرح ایک دفعہ پہلے کا واقعہ ہے کہ میں دریا پر تبدیلی آب و ہوا کیلئے گیا ہوا تھا۔وہاں ایک دن میں اپنی بیویوں اور لڑکیوں کو لے کر دریا کے کنارہ پر گیا۔اور بندوق کا خوف دور کرنے کیلئے ان سے بندوق سے نشانے کروائے کیونکہ یہ ہنر میرے نزدیک عورتوں کیلئے بھی ضروری ہے۔مگر نہ معلوم کس بھلے مانس نے زمیندار کو اطلاع دے دی اور اس نے لکھا کہ موسیو بشیر قادیان کی خواتین کو لے کر دریا پر گئے اور ان کے ساتھ مل کر نشانہ بازی کی مشق کی۔اب جس شخص نے اس نوٹ کو پڑھا ا اپک