خطبات محمود (جلد 15) — Page 66
خطبات محمود وہ الفاظ رہے اور دعائیں کرتے رہے۔غور کرو، ان لوگوں کے لئے یہ کتنی بڑی ٹھوکر تھی۔آج ہم یہ سمجھ بھی نہیں سکتے کہ یہ کوئی ٹھوکر تھی۔مجھے یاد ہے ایک پٹھان بہت مخلص تھا۔باوجود چھوٹی عمر کے میرے دل پر اس کے اخلاص کا اثر ہے۔بتانے والے نے بتایا کہ رات کو وہ زمین پر سر مارتا تھا مگر آخر کار وہ مرتد ہو گیا۔یہ کتنی بڑی ٹھوکر تھی۔پھر وہ زمانہ آیا کہ اللہ تعالٰی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر میں نبی اور رسول کے الفاظ جاری کرائے۔الہامات میں پہلے سے موجود تھے مگر کئی لوگ تحریر میں ان الفاظ کے آنے سے گر گئے۔غرض اس طرح آہستہ آہستہ یہ امتحان آتے رہے۔پھر مقدمات آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تذلیل کی بڑی بڑی کوششیں کی گئیں حتی کہ متواتر تین ماہ تک عام سرکاری تعطیلوں کے سوا برابر روزانہ کئی کئی گھنٹے آپ کو عدالت میں کھڑا رہنا پڑتا ہے۔اور ایک دن تو مجسٹریٹ ھے نے پانی تک پینے کی اجازت نہ دی۔ہم آج ان باتوں کو بھول گئے ہیں۔مگر اُس زمانہ کے مخلصین کیلئے یہ بہت بڑے ابتلاء تھے۔وہ ایک طرف تو خدا کا یہ وعدہ سنتے تھے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے 21 - اور تیرے نہ ماننے والے دنیا میں ادنیٰ اقوام کی طرح رہ جائیں گے۔مگر دوسری طرف دیکھتے تھے کہ ایک معمولی چار پانچ سو روپیہ تنخواہ لینے والا بنیا مجسٹریٹ روزانہ آپ کو کھڑا رکھتا ہے اور پانی تک پینے کی اجازت نہیں دیتا حتی کہ آپ کا کھڑے کھڑے سر چکرا جاتا اور پاؤں تھک جاتے۔کمزور ایمانوں والے حیران ہوتے ہوں گے کہ کیا یہی وہ شخص ہے جس کے متعلق اللہ تعالٰی کے اس قدر وعدے ہیں۔غرضیکہ یہ بھی ابتلاء تھے بعض کے لئے اس لحاظ سے کہ یہ کتنی بیچارگی ہے اور بعض کے لئے اس لحاظ سے کہ وہ اپنے ایمان کا اقتضاء یہی سمجھتے تھے کہ ایسے مخالفین کو مار ہی ڈالیں۔مجھے وہ نظارہ یاد ہے جس دن فیصلہ سنایا جانا تھا۔ہماری جماعت میں ایک دوست تھے جن کو پروفیسر کہا جاتا تھا۔پہلے وہ تاش وغیرہ کے کھیل اعلیٰ پیمانہ پر کیا کرتے تھے۔اچھے ہوشیار آدمی تھے اور چار پانچ سو روپیہ ماہوار کما لیتے تھے۔مگر احمدی ہونے پر انہوں نے یہ کام چھوڑ دیا اور معمولی دکان کرلی تھی۔انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عشق تھا اور غربت کو اخلاص سے برداشت کرتے تھے۔ان کے اخلاص کی ایک مثال میں سناتا ہوں۔انہوں نے لاہور میں جاکر کوئی دکان کی۔جو گاہک آتے انہیں تبلیغ کرتے ہوئے لڑ پڑتے۔خواجہ صاحب نے آکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے شکایت کی۔آپ نے محبت سے انہیں کہا کہ پروفیسر صاحب! ہمارے لئے یہی