خطبات محمود (جلد 15) — Page 65
خطبات " محمود ہم مریضوں کی ہے تمہیں پہ نظر ۶۵ سال ۱۹۳۴ء تم مسیحا بنو خدا کیلئے یہ تو ایک دوربین ولی اللہ کی نظر تھی۔مگر ہم کہہ سکتے ہیں کہ جن کی نگاہ اتنی دوربین تھی وہ بھی یہی سمجھتے تھے کہ اسلام کی نجات آپ سے وابستہ ہے۔مگر جب وہ ہتھیار آپ کو دیا گیا جس سے دشمن پامال ہو سکتا تھا۔وہ آب حیات دیا گیا جس سے مسلمانوں کی زندگی مقدر تھی، تو بڑے بڑے مخلص آپ سے متنفر ہو گئے اور کہنے لگے جسے ہم سونا سمجھتے تھے ، افسوس وہ تو پیتل نکلا۔ایسے لاکھوں انسان یکدم بدظن ہو گئے حتی کہ جب آپ نے بیعت کا اعلان کیا تو پہلے روز صرف چالیس اشخاص نے بیعت کی۔یا تو لاکھوں اخلاص رکھتے تھے اور پرانے لوگ سناتے ہیں کہ کس طرح بڑے بڑے علماء کہتے تھے کہ اسلام کی خدمت اسی شخص سے ہو سکتی ہے اور خود لوگوں کو آپ کے پاس بھیجتے تھے۔حتی کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے لکھا ہے کہ براہین کے شائع ہونے کے بعد میں مرزا صاحب کی زیارت کیلئے پیدل چل کر قادیان گیا ہے۔اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جنہوں نے آخر میں اپنا سارا زور مخالفت میں صرف کر دیا انہوں نے بھی لکھا کہ تیرہ سو سال کے عرصہ میں کسی نے اسلام کی اس قدر خدمت نہیں کی جتنی اس شخص نے کی ہے ہے۔حالانکہ اگر آپ کا دعوی نہ ہوتا تو آپ اسلام کی کوئی خدمت نہ کرسکتے تھے۔براہین تو ایک دلائل کی کتاب تھی مگر کیا قرآن سے بڑھ کر؟ ہرگز نہیں۔اور جب قرآن کے دلائل سے لوگ فائدہ نہیں اُٹھا رہے تھے تو براہین احمدیہ سے کیا اُٹھاتے۔دراصل دنیا کو ایک ایسے شخص کی ضرورت تھی جس کا ایک ہاتھ خدا کے ہاتھ میں ہوتا اور دوسرا بندوں کے ہاتھ میں جو بجلی کی ایک رو لوگوں کے اندر سرایت کر دے۔مگر جس چیز کی ضرورت تھی جب وہ دی گئی تو لوگ مایوس ہو گئے اور کہنے لگے ہماری غلطی تھی اور صرف تھوڑے لوگ باقی رہ گئے۔اس کے بعد جماعت بڑھنی شروع ہوئی اور سینکڑوں لوگ داخل ہو گئے۔پھر آتھم کی پیشگوئی کا وقت آیا۔ایک دوست سناتے ہیں کہ باوجود یکہ پیشگوئی بالکل واضح تھی مگر رات کے وقت دیر تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسی کے متعلق فرماتے رہے کہ آج کی رات ضرور اللہ تعالٰی فیصلہ کر دے گا۔وہ نیا نیا زمانہ تھا مخالفت کا طوفان ہر طرف سے اُٹھ رہا تھا۔اور ظاہر ہے کہ ایسے وقت میں یہ کتنی بڑی مصیبت تھی۔میری عمر اُس وقت چھ سات سال کے درمیان تھی اس لئے مجھے تو کچھ یاد نہیں۔ہاں ایک دوست کی روایت ہے کہ مہمان خانہ میں ہم چار پانچ آدمی ساری رات مذبوح کی طرح زمین پر لوٹتے