خطبات محمود (جلد 15) — Page 48
خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء قرض لئے جاتا ہے تو وہ یقیناً دھوکا باز ہے۔ایسا شخص سمجھ رہا ہوتا ہے کہ چونکہ میں قرض لے رہا ہوں اس لئے یہ جائز کام ہے حالانکہ قرض وہ ہوتا ہے جس کے ادا کرنے کی ہمت ہو۔جب ہمت ہی نہ ہو تو پھر قرض کے نام سے روپیہ لینا قرض نہیں بلکہ جھنگی ہے۔مثلاً ایک شخص جس کی پچاس روپیہ بھی آمد نہ ہو ، اگر وہ دو لاکھ روپیہ قرض لے لے تو کیا کوئی کہہ سکتا دو ہے کہ اس نے قرض لیا ہے۔ہر شخص کہے گا کہ یہ قرض نہیں بلکہ دھوکا اور فریب ہے۔لاکھ چھوڑ اس کی تو دو ہزار کی بھی حیثیت نہیں ، یہی مثال پچاس میں یا دس روپیہ قرض لینے بھی عائد ہو سکتی ہے۔جب ایک شخص میں دس روپیہ قرض ادا کرنے کی بھی ہمت نہیں تو اگر وہ دس روپیہ بھی لیتا ہے تو دھوکا بازی کرتا ہے۔چونکہ ہماری جماعت کا قرض لینے والا حصہ خواہ وہ دس ہیں، پچاس، سو یا دو سو روپیہ قرض لیتا ہے بسا اوقات ایسی صورت میں قرض لیتا ہے جبکہ وہ اُسے ادا کرنے کی ہمت نہیں رکھتا اس لئے میری تشریح کے مطابق ننانوے فیصدی یقینی طور پر دھوکا باز ہیں۔اور جبکہ اس قسم کے لوگ ہماری جماعت میں موجود ہوں میں کس طرح ترغیب دے سکتا ہوں کہ غریبوں کو قرض دو۔میرا اپنا تجربہ یہی ہے۔خلافت کے ابتدائی چار پانچ سالوں میں میرے پاس لوگوں کی بہت سی امانتیں رہتی تھیں۔بعض دفعہ میں ہیں تمھیں تھیں ہزار روپیہ امانتوں کا ہو جاتا تھا۔اور چونکہ میرے پاس یہ روپیہ موجود ہوتا تھا اس لئے جب مجھ سے کوئی شخص قرض مانگتا تو میں اُسے دے دیتا۔مگر میں دیکھتا کہ قرض لینے والوں کا بیشتر حصہ ایسا ہوتا جو قرض لے کر بھول جاتا اور چونکہ میرے لئے یہ ایک نہایت ہی مشکل تھی اس لئے میں نے امانتیں لینی چھوڑ دیں۔اب بھی بعض امانتیں اگرچہ لوگ میرے پاس رکھواتے ہیں مگر میں انہیں اپنے پاس نہیں رکھتا بلکہ بنک میں جمع کرا دیتا ہوں اس لئے اب اگر مجھ سے کوئی شخص قرض مانگے تو سچائی سے میرے پاس یہ منذر ہوتا ہے کہ اپنا کیا دوسروں کا بھی میرے پاس روپیہ نہیں کیونکہ میرے لئے یہ مشکل ہوتی ہے کہ کوئی مصیبت زدہ میرے پاس آئے اور میں اس کی امداد سے قاصر رہوں۔انہی مشکلات کی وجہ سے میں اب لوگوں کو جرات نہیں دلاتا کہ میرے پاس امانتیں رکھوا دیا کرو۔ورنہ حضرت خلیفہ اول ہر ہفتہ درس وغیرہ میں فرما دیا کرتے تھے کہ روپیہ اپنے گھروں میں نہ رکھو بلکہ میرے پاس رکھا دیا کرو تا وہ محفوظ کرو تا وہ محفوظ رہے۔ابتدائے خلافت میں میں بھی کہہ دیا کرتا تھا۔اور اس طرح کافی رقم جمع ہو جایا کرتی تھی مگر اب میں اول تو امانتیں لیتا ہی نہیں اور اگر لوں بھی تو انہیں بنک