خطبات محمود (جلد 15) — Page 485
خطبات محمود ۴۸۵ سال ۱۹۳۴ تو اب وقت بدل چکا ہے اس سکیم کا اثر سب ہی پر پڑے گا۔جو شخص زیادہ کپڑے بنوانے کا عادی ہے جب وہ جاکر اور کپڑے خریدنے لگے گا تو معاً اسے خیال آئے گا کہ اب ہماری حالت بدل گئی ہے، جب بھی بیوی سبزی ترکاری کیلئے کہے گی اور دو تین کی بجائے صرف ایک ہی منگوانے کو کہے گی تو فوراً اسے خیال آجائے گا کہ اب ہمارے لئے زیادہ قربانیاں کرنے کا وقت آگیا ہے، جب بھی نوکر کھانا پکانے لگے گا اور صرف ایک ہنڈیا چڑھائے گا اسے محسوس ہو جائے گا کہ اب اس گھر کی حالت بدل گئی ہے غرضیکہ کوئی حصہ ایسا نہیں جس میں احساس نہ پیدا ہو گا کہ اب جماعت کی حالت بدل گئی ہے اور اسے بھی اپنی حالت کو بدل لینا چاہیئے ورنہ تم جماعت کا مخلص حصہ نہیں سمجھے جاؤ گے۔تیسری بات میں نے یہ مد نظر رکھی ہے کہ جس قدر اطراف سے سلسلہ پر حملہ ہو رہا ہے، سب کا دفعیہ ہو۔اب تک ہم نے بعض رستے مچن لئے تھے اور کچھ قلعے بنالئے تھے مگر کئی حملے دشمن کے اس لئے چھوڑ دیتے تھے کہ فلاں کو دور کرلیں پھر اس طرف توجہ کریں گے۔مگر اس سکیم میں اب میں نے یہ مد نظر رکھا ہے کہ حتی الوسع ہر پہلو کا دفعیہ کیا جائے اور کوئی حملہ ایسا نہ ہو جس کے جواب کیلئے ہم تیار نہ ہوں۔مثلاً یہ بھی ہم پر ایک حملہ تھا کہ کا نگری کھڈر پہنتے ہیں اور آپ کی جماعت مذہبی جماعت ہوتے ہوئے اس قدر قربانی نہیں کرتی۔ہم جواب دیتے تھے کہ کانگرسی وہ روپیہ جو کھڈر پہننے سے بچتا ہے کانگرس کو نہیں دے دیتے لیکن ہماری جماعت تو اس قدر مالی قربانی کرتی ہے کہ کانگرس والے اس کا عشر عشیر بھی پیش نہیں کرسکتے۔مگر یہ جواب گو درست تھا مگر سوال کا پہلو بچا کر دوسرے رنگ میں دیا جاتا تھا اس جہت سے ہم کوئی جواب نہ دے سکتے تھے جس طرف سے کہ یہ حملہ کیا جاتا تھا۔مگر اب ہم کہیں گے کہ صرف کھدر پہننا کوئی عظمندی نہیں عظمندی یہ ہے ؟ که اقتصادی حالت کو درست کیا جائے اور ہم نے ایسا عہد کیا ہے کہ جس سے ہماری اقتصادی حالت درست ہو جائے۔مثلاً بیش قیمت لباس نہ استعمال کیا جائے، گوٹا کناری اور فیتہ لیس وغیرہ نہ خریدے جائیں۔کانگری کھدر کے ساتھ ایسی سب چیزیں استعمال کر لیتے تھے مگر ہم نے یہ سب چیزیں چھوڑ دی ہیں، اسی طرح ہم نے کپڑوں میں کفایت کے علاوہ کھانے، شادیوں اور دعوتوں میں بھی تغیر کر دیا ہے۔پس اب ہم ان کے اصول کو صحیح قرار دیتے ہوئے بھی جواب دے سکتے ہیں۔