خطبات محمود (جلد 15) — Page 469
خطبات محمود سال ۱۹۳۴ تو 03- ہے۔وہ کرنے والی نہیں اور ایک بھی ایسی نہیں کہ اس کے بغیر ہماری ترقی کی عمارت مکمل ہو سکے۔پس میں اپنی جماعت کے لوگوں سے کہتا ہوں کہ جس جس سے ہو سکے ان میں حصہ لے اور اس طرح سلسلہ کی ترقی کے وقت کو قریب لانے اور خدا تعالیٰ سے اجر حاصل کرنے کی کوشش کرے۔انیسواں مطالبہ - دعا۔ایک اور چیز باقی رہ گئی ہے جو سب کے متعلق ہے گو غرباء اس میں زیادہ حصہ لے سکتے ہیں۔دنیاوی سامان خواہ کس قدر کئے جائیں آخر دنیاوی سامان ہی ہیں اور ہماری ترقی کا انحصار ان پر نہیں بلکہ ہماری ترقی خدائی سامان کے ذریعہ ہوگی اور یہ خانہ اگرچہ سب سے اہم ہے مگر اسے میں نے آخر میں رکھا ہے اور وہ دعا کا خانہ لوگ جو ان مطالبات میں شریک نہ ہو سکیں اور ان کے مطابق کام نہ کر سکیں وہ خاص طور پر دعا کریں کہ جو لوگ کام کر سکتے ہیں خدا تعالیٰ انہیں کام کرنے کی توفیق دے اور ان کے کاموں میں برکت ڈالے۔ہماری فتح ظاہری سامانوں سے نہیں بلکہ باطنی سامانوں سے ہوگی۔اگر ہمارے دلوں میں حقیقی ایمان پیدا ہو جائے اور اگر ہم صرف خدا کے ہو جائیں تو ساری دنیا کو فتح کر لینا ہمارے لئے کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ اگر چالیس مومن بھی کھڑے ہو جائیں تو ساری دنیا کو فتح کر سکتے ہیں ہے۔وہ لوگ جو کچھ نہیں کرسکتے وہ یہی دعا کرتے رہیں کہ خدا تعالی چالیس مومن پیدا کردے۔ایسے چالیس مومن جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ دنیا کو فتح کرسکتے ہیں۔پس وہ لولے لنگڑے اور اپانچ جو دوسروں کے کھلانے سے کھاتے ہیں، جو دوسروں کی امداد سے پیشاب اور پاخانہ کرتے ہیں اور وہ بیمار اور مریض جو چار پائیوں پر پڑے ہیں اور کہتے ہیں کہ کاش! ہمیں بھی طاقت ہوتی اور ہمیں بھی صحت ہوتی تو ہم بھی اس وقت دین کی خدمت کرتے ان سے میں کہتا ہوں کہ ان کیلئے بھی خدا تعالٰی نے دین کی خدمت کا موقع پیدا کر دیا ہے وہ اپنی دعاؤں کے ذریعہ خدا تعالیٰ کا دروازہ کھٹکھٹائیں اور چارپائیوں پر پڑے پڑے خدا تعالی کا عرش ہلائیں تاکہ کامیابی اور فتح مندی آئے۔پھر وہ جو ان پڑھ ہیں اور نہ صرف ان پڑھ ہیں بلکہ کند ذہن ہیں اور اپنی اپنی جگہ گڑھ رہے ہیں کہ کاش! ہم بھی عالم ہوتے کاش! ہمارا بھی ذہن رسا ہوتا اور ہم بھی تبلیغ دین کے لئے نکلتے ان سے میں کہتا ہوں کہ ان کا بھی خدا ہے جو اعلیٰ درجہ کی عبارت آرائیوں کو نہیں دیکھتا، اعلیٰ تقریروں کو نہیں دیکھتا بلکہ دل کو دیکھتا ہے وہ اپنے سیدھے