خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 470

خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء سادھے طریق سے دعا کریں، خدا تعالیٰ ان کی دعا سنے گا اور ان کی مدد کرے گا۔رسول کریم ان کے ایک مخلص صحابی بلال " حبشی تھے جن کے نام سے تمام امت اسلامیہ واقف ہے وہ اذان دیا کرتے تھے۔چونکہ عرب نہ تھے اس لئے عربی کے بعض حروف ادا نہ کرسکتے تھے۔"اَشْهَدُ" کی بجائے "اَشْهَدُ " کہا کرتے تھے اور لوگ ان کی اذان پر ہنتے تھے۔رسول کریم ال نے ایک دفعہ لوگوں کو ہنستے سنا تو باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ بلال کی آواز تو اللہ تعالی کو بھی پیاری ہے۔اللہ تعالیٰ یہ نہیں دیکھتا تھا کہ وہ "ش" ادا نہیں کرسکتے۔بلکہ وہ یہ دیکھتا تھا کہ یہ میرا وہ بندہ ہے جسے سخت دھوپ میں گرم ریت پر لٹایا گیا مگر اس نے اَشْهَدُ اَنْ لا إِلَهَ ملے کہنا نہ چھوڑا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس ایک دفعہ ایک عالم آیا آپ نے بات کرتے وقت معمولی طور پر ق کا حرف ادا کرتے ہوئے قرآن کہا تو وہ کہنے لگا مسیح موعود بنے پھرتے ہیں اور قرآن کہنا بھی نہیں آتا۔اُن دنوں صاحبزادہ عبد اللطيف صاحب شہید آئے ہوئے تھے اُن کا ہاتھ اس کے منہ کی طرف اُٹھنے ہی لگا تھا کہ آپ نے انہیں روک دیا اور پھر جب تک اس شخص سے گفتگو کرتے رہے صاحبزادہ صاحب کا ایک ہاتھ آپ نے پکڑے رکھا اور دوسرا حضرت مولوی عبدالکریم کو پکڑے رکھنے کا ارشاد فرمایا اور وہ اس دوران غصہ سے لرزتے رہے لیکن وہ نادان کیا جانتا تھا کہ خدا تعالیٰ کو آپ کا سیدھا سادہ قرآن کہنا ہی پسند تھا۔پس کوئی یہ مت سمجھے کہ اسے عبارت آرائی نہیں آتی کیونکہ خدا تعالٰی الفاظ کو نہیں دیکھتا۔اگر اعلیٰ درجہ کے الفاظ میں اس سے کے الفاظ میں اس سے التجا کی جائے تو اسے بھی سنتا ہے اور اگر ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں اس کے در اجابت کو کھٹکھٹایا جائے تو بھی کھولتا ہے اور پکارنے والے کی دعا سنتا ہے۔پس وہ لوگ جو معذوری اور مجبوری کی وجہ سے کسی مطالبہ کو پورا کرنے میں نہیں لے سکتے میں نے یہ ایسی تجویز بتائی ہے کہ اس میں وہ سب شریک ہو۔شخص ہو سکتے ہیں اور یہ سب سے اعلیٰ سب سے اہم اور سب سے ضروری تجویز ہے۔وہ جو چارپائیوں پر پڑے ہوئے اپانچ ہیں، وہ جنہیں بات کرنے کا شعور نہیں، وہ جن کے ذہن رسا نہیں ، وہ جو بیمار اور کمزور ہیں، وہ جو قید میں پڑے ہیں، وہ جو مصائب و تکالیف اور مشکلات میں گرفتار ہیں، وہ ب جو یہ کام کرنا چاہتے ہیں مگر کر نہیں سکتے، وہ اس تجویز پر عمل کریں اس طرح وہ کام کرنے والوں سے ثواب حاصل کرنے میں پیچھے نہ رہیں گے کیونکہ وہ خدا تعالی سے کہہ سکتے