خطبات محمود (جلد 15) — Page 443
خطبات محمود ۴۴۳ سال ۱۹۳۳ء نہیں روک سکتا ہے۔حقیقی جذبہ قربانی یہ ہوتا ہے۔ایسے ہی لوگوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اور ان کے حسّاس اور اخلاص سے بھرے ہوئے دلوں کو ٹھیس سے بچانے کیلئے میں نے ان کو قربانی کرنے کا طریق بتادیا ہے۔کئی غرباء ایسے ہیں کہ انہوں نے دس روپیہ والی تحریک میں حصہ لے کر سو دوسو چار سو دینے والوں سے بھی بہت بڑی قربانی کی ہے۔مثلاً مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض ایسے لوگ جنہوں نے دس روپے دیئے ہیں انہوں نے سارے ماہ کی آمدنی دے دی ہے۔اور بعض جنہوں نے ہمیں روپے دیئے ہیں ان کی سارے مہینہ کی آمدنی میں روپے ہی تھی۔گویا انہوں نے ایک مہینہ کی ساری کی ساری آمدنی دے دی۔اب اگر چار سو ماہوار کمانے والا ایک سو روپیہ دیتا ہے یا پانچ سو ماہوار کمانے والا ایک سو کی رقم پیش کرتا ہے تو اس کے معنے ہوئے کہ وہ اپنی آمدنی کا ۱/۴ اور ۱/۵ حصہ دیتے ہیں حالانکہ ایسی ضرورتوں کو پورا کرنے کے بعد جو لازمی ہوتی ہیں ان کے پاس زیادہ رقم بچتی ہے۔میں نے غرباء اور امراء کا مقابلہ اس رنگ میں بھی کیا ہے کہ جس چیز کے بغیر گزارہ نہیں ہو سکتا اس پر ان کا خرچ کتنا ہوتا ہے۔مثلاً ایک غریب شخص ہے جس کے کھانے والے پانچ کس ہیں۔اگر فی کس کے حساب سے ڈیڑھ روپیہ ماہوار کا آٹا رکھا جائے تو صرف آٹا ساڑھے سات روپے کا ہوا اور اگر اس کی ماہوار آمد بیس روپے ہو تو گویا ۱/۳ رقم سے زیادہ اس کی آئے پر صرف ہوتی ہے اور اگر پکوائی وغیرہ کو مد نظر رکھ لیا جائے تو گویا اس کی آمد میں سے ۴۵ فیصدی رقم خشک روٹی پر خرچ ہو جاتی ہے۔اس کے مقابلہ میں اگر پانچ سو ماہوار آمد والے شخص کے بھی پانچ کس ہی کھانے والے ہوں تو آئے پر اس کی رقم بھی اتنی ہی خرچ ہوگی جتنی ہیں روپے آمد والے غریب کی خرچ ہوتی ہے۔اور اس طرح امیر کی صرف ڈیڑھ فیصدی رقم ایسی ضرورت پر خرچ ہوئی جس کے بغیر چارہ نہیں مگر غریب کی ایسی ضرورت پر ۴۵ فیصدی رقم صرف ہوگی۔یہ کتنا بڑا فرق ہے اور غریب کی قربانی کو یہ کتنا شاندار بنا دیتا ہے۔غرض کئی غرباء ایسے ہیں کہ میں جانتا ہوں انہوں نے اس تحریک میں حصہ لے کر بظاہر مطلوبہ رقم کو زیادہ نہیں بڑھایا لیکن جماعت کے اخلاص اور جذبہ قربانی میں بہت بڑا اضافہ کر دیا ہے اور ایسی قیمتی چیز پیش کی ہے جسے ہم خدا تعالیٰ کے سامنے رکھ سکتے ہیں۔جس طرح ایک موتی کا کیڑا سمندر کی تہہ میں بیٹھ کر ایسا موتی تیار کرتا ہے جو بادشاہ کے سامنے پیش کیا