خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 418

خطبات محمود ۴۱۸ سال ۱۹۳۴ ابوسفیان نے بیس سال تک رسول کریم ﷺ سے جنگ کی اور فتح مکہ پر مسلمان ہوئے۔رسول کریم کے ساتھ پہلے وہ اس قدر شدید بغض رکھتی تھی کہ جنگ اُحد میں حضرت حمزہ کی شہادت کے بعد اس نے ان کے ناک اور کان کٹوائے تھے اور بعض روایات میں ہے کہ ان کا کلیجہ نکال کر چبایا تھا۔اُحد کی جنگ میں جب حضرت حمزہ شہید ہوئے تھے اس جنگ میں مسلمانوں کو پیچھے ہٹنا پڑا اور اس طرح مسلمان شہداء کی لاشیں کفار کے رحم پر تھیں۔اس وقت ہندہ نے اس وجہ سے کہ حضرت حمزہ نے ایک خاص آدمی کو مارا تھا، ان کی لاش کا مثلہ کروایا۔تو وہ ایسی خطرناک دشمن تھیں مگر فتح مکہ کے بعد وہ اور ان کے خاوند ابوسفیان بھی ایمان لے آئے اور ان کے لڑکے حضرت معاویہ بھی۔ایک جنگ کے موقع پر ہرقل کی فوجوں کے ساتھ سخت معرکہ درپیش تھا۔مسلمانوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ ساٹھ ہزار تھی اور و کی دس لاکھ بھی بعض نے لکھی ہے اور تین چار لاکھ تو مسیحی مؤرخین نے بھی بیان کی ہے گویا ان کی تعداد مسلمانوں سے کم سے کم پانچ چھ گنا تھی۔ایک دفعہ دشمن کی طرف سے ایسا سخت ریلا ہوا کہ مسلمانوں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ہندہ نے جو اپنے خیمہ میں تھیں، جب غبار اڑتے دیکھا تو کسی سے پوچھا کہ یہ کیسا غبار ہے۔اس نے بتایا کہ مسلمانوں کو شکست ہو گئی ہے اور وہ پسپا ہو رہے ہیں۔ہندہ نے عورتوں سے کہا کہ اگر مردوں نے شکست کھائی ہے اور اسلام کے نام کو بٹہ لگایا ہے آؤ ہم مقابلہ کریں۔عورتوں نے ان سے دریافت کیا کہ ہم کس طرح مقابلہ کر سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم مسلمانوں کے گھوڑوں کو ڈنڈے ماریں گی اور کہیں گی کہ تم نے پیٹھ دکھائی ہے تو اب ہم آگے جاتی ہیں۔اس وقت ابو سفیان اور دوسرے صحابہ واپس آرہے تھے کیونکہ ریلا بہت سخت تھا انہیں دیکھ کر ہندہ آگے آئیں اور ان کے گھوڑوں کو ڈنڈے مارنے شروع کئے اور ابو سفیان سے کہا کہ تم تو کفر کی حالت میں بھی اپنی بہادری کی بہت شیخیاں مارا کرتے تھے مگر اب مسلمان ہو کر اس قدر بُزدلی دکھا رہے ہو حالانکہ اسلام میں تو شہادت کی موت زندگی ہے۔اس پر ابوسفیان نے مسلمانوں سے کہا کہ واپس چلو ہندہ کے ڈنڈے دشمن کی تلوار سے زیادہ سخت ہیں تے۔چنانچہ مسلمانوں نے پھر حملہ کیا اور خدا تعالی نے ان کو فتح دی۔تو مسلمان عورتوں کی زندگیوں میں قربانی کے ایسے شاندار نمونے ملتے ہیں جن سے بڑھ کر نمونہ پیش نہیں کیا جاسکتا۔اسی طرح مردوں نے بھی بے شمار قربانیاں کی ہیں۔احد کی جنگ