خطبات محمود (جلد 15) — Page 408
خطبات محمود ۴۰۸ سال ۱۹۳۴ء۔۔طرف سے ان لوگوں سے یہ معاہدہ کیا تھا کہ اگر دشمن رسول کریم ﷺ کو نقصان پہنچانے یا ڑنے کیلئے مدینہ پر حملہ کریں گے تو مدینہ کے لوگ اپنی ہر چیز قربان کرکے آپ کی حفاظت کریں گے ، لیکن اگر مدینہ سے باہر جنگ ہو تو وہ ذمہ وار نہیں ہوں گے۔اس صحابی کا اسی معاہدہ کی طرف اشارہ تھا۔یا رسول اللہ ! وہ وہ وقت تھا جب ہمیں اسلام کی پوری طرح خبر نہ تھی اور اب اس پیغام کی اہمیت کا ہمیں علم ہوچکا ہے کیا اب بھی ہم کسی قربانی سے دریغ کر سکتے ہیں۔کچھ منزلوں پر سمندر تھا اس جہت کی طرف اشارہ کر کے کہا یا رسول اللہ ! آپ ہمیں اس سمندر میں گھوڑے ڈالنے کا حکم دیجئے ہم کسی چون و چرا کے بغیر سمندر میں کود پڑیں گے اور اگر جنگ ہوئی تو ہم آپ کے آگے لڑیں گے اور پیچھے لڑیں گے، دائیں لڑیں گے اور بائیں لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکے گا جب تک ہماری لاشوں کو کچل کر نہ جائے ہے۔تب رسول کریم ﷺ نے فرمایا بہت اچھا خدا کا یہی حکم تھا۔اس صحابی کا جواب اتنا پیارا ہے کہ ایک اور صحابی جو رسول کریم ال کے ساتھ بہت سی جنگوں میں شامل ہوئے حسرت کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ کاش مجھے ان جنگوں میں شامل ہونے کی سعادت حاصل نہ ہوئی ہوتی اور یہ الفاظ میرے منہ سے۔نکلے ہوتے ہے۔یہ الفاظ ایسے موقع پر اور اس خاص حالت میں جبکہ رسول کریم الله و انصار سے مشورہ لے رہے تھے اور اس خیال کے ماتحت لے رہے تھے کہ وہ مدینہ سے باہر جنگ کرنے کے پابند نہیں اس جوش اور محبت میں کیے گئے تھے کہ رسول کریم اے کے ساتھ جنگوں میں شامل ہونے کی سعادت سے بھی زیادہ قیمتی معلوم ہوتے ہیں اس لئے نہیں کہ الفاظ جنگ سے افضل ہیں یا زیادہ درجہ کھتے ہیں بلکہ اس لئے کہ ان الفاظ میں جس محبت کا اظہار ہے وہ ایک بے پایاں سمندر کی طرح حدوبست سے آزاد معلوم ہوتی ہے۔غرض ایسے مواقع پر رسول کریم ال اخفاء سے کام لیتے تھے مگر ایسے حالات میں کہ مطلب کے حصول کیلئے اظہار مضر ہوتا۔پس ایسا اخفاء ناجائز نہیں۔ہاں جو اخفاء اس لئے کیا ہے کہ فعل قانونا یا اخلاقا یا مذہباً جرم ہے اور اس لئے کیا جاتا ہے کہ تا اس فعل کا مرتکب قانونی یا مذہبی یا اخلاقی جُرم کا مرتکب نہ قرار دیا جائے، وہ ناجائز ہے لیکن جو چیز سراسر جائز ہے، اس میں مطلب براری اور کامیابی کیلئے ایک حد تک اخفاء جائز ہے۔پس بعض باتوں کے متعلق دوستوں کو صرف مجملاً ہدایت سن کر اس پر قربانی کیلئے اپنے آپ کو پیش کرنا ہو گا۔