خطبات محمود (جلد 15) — Page 407
خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء ابتداء میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔الم - ذلِكَ الْكِتُبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَیبِ ہے - تو مومن کو کچھ ایمان بالغیب بھی چاہیئے۔رسول کریم ﷺ صحابہ کو بدر کے موقع پر مدینہ سے نکال کر لے گئے مگر خدا تعالٰی سے علم پانے کے باوجود ان کو یہ نہیں جتایا کہ لڑائی یقیناً ہونے والی ہے۔بدر کے قریب پہنچ کر ان کو جمع کیا اور اس وقت بتایا کہ میں نے کہا تھا اللہ تعالی کی طرف سے وعدہ ہے کہ دو میں سے ایک چیز ضرور مل کر رہے گی۔یا تو وہ قافلہ جو شام سے آنے والا ہے اور یا دوسرا فریق جو دھمکی دینے والا ہے مل جائے گا۔اب میں تم کو بتاتا ہوں کہ ان دو فریق میں سے اللہ تعالیٰ نے جنگ کو ہی چنا ہے۔صحابہ بوجہ پورا علم نہ ہونے کے تیاری کر کے نہیں آئے تھے اور بہت سے تو گھروں سے ہی نہ آئے تھے اور بظاہر حالت مسلمانوں کو کمزور کرنے والی تھی۔مگر مصلحت یہی تھی کہ سارے حالات ظاہر نہ کئے جائیں۔ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ رسول کریم ﷺ کو تفاصیل مدینہ میں ہی معلوم تھیں یا مدینہ سے باہر نکلنے کے بعد اللہ تعالٰی نے بتائیں مگر بہر حال قرآن کریم اور حدیث سے یہ ثابت ہے۔کہ کچھ عرصہ تک اس علم کو اخفاء میں رکھا گیا اس لئے عین موقع پر چونکہ لوگ تیار نہ تھے آپ نے دریافت فرمایا کہ اب بتاؤ کیا منشاء ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر صحابہ لڑائی نہ کرنے کا مشورہ دیتے تو رسول کریم اللہ بھی نہ کرتے۔خدا تعالیٰ کے سامنے صرف آپ ہی جواب وہ تھے اس لئے اگر صحابہ لڑائی نہ کرنے کا مشورہ دیتے تو آپ پھر بھی جنگ کرتے، اور کہتے کہ مجھے خدا تعالی کا حکم ہے، اس لئے میں اکیلا جاتا ہوں۔آپ کے پوچھنے کا مطلب صرف صحابہ کو ثواب میں شامل کرنا تھا۔غرض آپ نے مشورہ پوچھا اور اس پر مہاجرین کھڑے ہوئے اور کہا یا رسول اللہ ! ہم جنگ کیلئے حاضر ہیں۔مگر اس کے باوجود آپ نے پھر دوبارہ پوچھا کہ اے دوستو! مشورہ دو کیا کرنا چاہیے۔پھر مہاجرین نے کہا یا رسول اللہ ! ہم تیار ہیں۔مگر آپ نے سه باره فرمایا دوستو! مشورہ دو کیا کرنا چاہیئے۔تب ایک انصاری کھڑے ہوئے اور کہا یا رسول اللہ ! آپ کی بات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی مراد ہم سے ہے۔ہم نے سمجھا تھا کہ جو مشورہ دیا گیا ہے وہ ہم سب کی طرف سے ہے مگر آپ کا منشاء یہ معلوم ہوتا ہے کہ انصار جواب دیں۔آپ نے فرمایا ہاں میرا یہی منشاء ہے۔تب اس صحابی نے کہا یا رسول اللہ ! شاید آپ کو اس معاہدہ کا خیال ہے جو آپ کو مدینہ میں بلانے کے وقت کیا گیا تھا۔نومسلمین نے جب رسول کریم ﷺ کو مدینہ آنے کی تحریک کی تو حضرت عباس بھی اللہ نے رسول کریم اے