خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 399 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 399

خطبات محمود ۳۹۹ سال ۱۹۳۴ء مبلغ کہ کیا کوئی مسلمان ملکانوں کی خبر گیری کرنے والا نہیں۔پھر اشتہار دیئے گئے جن میں لکھا گیا تھا کہ احمدی لوگ کہا کرتے ہیں کہ وہ اسلام کے محافظ ہیں بتائیں کہ کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ وہ بیدار ہوں اور اسلام کی حفاظت کریں۔اس پر میں نے اپنی جماعت میں اعلان کیا تو خدا تعالی کے فضل سے تین سو آدمیوں نے اپنی جانیں پیش کردیں اور ایک ایک وقت میں سو سو ہمارا مکانا میں کام کرتا رہا ایک لاکھ کے قریب ہمارا روپیہ خرچ ہوا اور خدا تعالیٰ کے فضل نتیجہ یہ نکلا کہ آریوں کو ہر میدان میں شکست دے دی اور یہ جو اُن کا خیال تھا کہ وہ مسلمانوں میں ایک عام رو ارتداد کی چلا دیں گے غلط ثابت ہوئی۔گاندھی جی کو جو اس وقت جیل میں تھے، جب یہ حالت معلوم ہوئی تو انہوں نے اس پر اظہار ناراضگی کرنا شروع کیا اور سیاسی لیڈروں نے کہنا شروع کیا کہ آپس میں صلح کرلو اور اپنے اپنے مبلغ واپس منگوالو۔سوامی شرد ہانند جی اس وقت زندہ تھے انہوں نے پر زور آواز اٹھائی کہ ہمیں گاندھی جی کی بات مان لینی چاہیے اور آپس میں صلح کرلینی چاہیئے۔چنانچہ دہلی میں ایک میٹنگ ہوئی۔ہمارے بعض دوستوں نے کہا کہ اس میٹنگ میں ہمیں نہیں بلایا گیا۔میں نے کہا آپ لوگ تسلی رکھیں ہمیں بلانے پر مجبور ہوں گے کیونکہ ہمارے بغیر یہ صلح ہو ہی نہیں سکتی۔چنانچہ و دوسرے ہی دن ڈاکٹر انصاری، مولانا محمد علی صاحب اور حکیم اجمل خانصاحب کی طرف سے میرے نام تار آیا جس میں لکھا تھا کہ آپ اپنے نمائندوں کو یہاں بھیجئے۔میں نے اپنے دوستوں سے کہا دیکھو وہ ہمارے بلانے پر مجبور ہو گئے ہیں میں تو پہلے ہی جانتا تھا کہ وہ ہمارے بغیر صلح کرہی نہیں سکتے۔خیر جب میں نے اپنی طرف سے نمائندے بھیجے تو میں نے انہیں کہہ دیا کہ وہاں یہی امر پیش کیا جائے گا کہ گاندھی جی چونکہ سخت اذیت پارہے ہیں اس لئے کام سب بند کر دینا چاہیئے اور اپنے اپنے مبلغ واپس منگوا لینے چاہئیں، آریہ اپنے گھروں میں چلے جائیں اور مسلمان اپنے گھروں میں، مگر آپ اس کے جواب میں یہ کہیں کہ آپ لوگ میں ہزار مسلمان آریہ بنا چکے ہیں ان میں ہزار کو آپ کلمہ پڑھا کر مسلمان کر دیں تو ہم اپنے گھروں میں آجائیں گے اور آپ اپنے گھروںں میں آجائیں، ورنہ جب تک ہمیں ہزار اشخاص اسلام میں واپس نہیں آتے اس وقت تک ہماری تبلیغ جاری رہے گی چنانچہ ایسا ہی ہوا۔جب ہمارے نمائندے گئے تو انہوں نے یہی امر پیش کیا کہ آپ بیس ہزار مسلمان آریہ کرچکے ہیں جب تک آپ انہیں واپس نہیں کرتے ہم تبلیغ سے کس طرح رُک سکتے ہیں اور اگر صلح کرلیں تو اس کے یہ معنے 83