خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 34

خطبات محمود ۳۴ سال ۱۹۳۴۳ء پاکیزگی ہے۔جس کے اندر یہ پیدا ہو جائے اسے عشق الہی حاصل ہو جاتا ہے۔محبت ایک آگ ہے، اس کی ابتدائی حالت بھی آگ ہے اور انتہائی بھی۔اسی طرح عشق جب شروع ہو تو پھیلتا جاتا ہے اور اس کا پہلا حصہ بھی عشق ہے اور آخری بھی عشق ہے۔طہارت کے کئی مقام ہیں۔محمد رسول اللہ کی طہارت کا جو مقام تھا وہ حضرت ابوبکر کو حاصل نہیں تھا۔اور حضرت ابوبکر" کے مقام طہارت کو حضرت عمر " نہیں پہنچے تھے۔حضرت عمر کا مقام حضرت اریم عثمان سے اور حضرت عثمان " کا حضرت علی سے بلند تھا۔تو طہارت کے مدارج کے حصول کی کوشش بھی جاری رہنی چاہیئے۔مگر عشق ہر وقت سُلگ سکتا ہے اور جس کے اندر خدا کا عشق پیدا ہو جائے وہ قرآن کریم کو سمجھ سکتا ہے پس قرآن کریم کو تمام علوم پر مقدم کرو۔مسلمانوں کی ساری تباہی اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے قرآن کریم کو چھوڑ دیا حتی کہ علماء کہلانے والوں نے بھی چھوڑ دیا۔ہمارے لاہور کے ایک دوست کو مولویوں میں تبلیغ کا شوق ہے وہ میرے پاس دیوبند کے تعلیم یافتہ طلباء کو لے آئے جن میں سے ایک نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کی تعلیم کتنی ہے۔ان کے نزدیک تعلیم سے مراد چونکہ کسی مدرسہ کا سند یافتہ ہونا تھا اس لئے میں نے کہا کوئی نہیں۔کہنے لگے آخر کچھ تو ہوگی۔میں نے کہا صرف قرآن جانتا ہوں۔کہنے لگے انتہائی تعلیم کیا ہے۔میں نے کہا ابتدائی بھی یہی اور انتہائی بھی یہی ہے۔پھر انہوں نے پوچھا انگریزی تعلیم بھی ہے یا نہیں۔میں چونکہ ان کا مطلب سمجھ چکا تھا۔میں نے کہا میں مدرسہ میں پڑھا کرتا تھا مگر دسویں جماعت تک ہمیشہ فیل ہوتا رہا۔ایک نے کہا پھر پرائیویٹ حاصل کی ہوگی۔میں نے کہا وہ بھی قرآن ہی کی۔میرے اس جواب سے کہ صرف قرآن ہی پڑھا ہے، وہ حیران تھے۔اور یہ ان لوگوں کی حالت ہے جو دین کی اشاعت کے ذمہ دار ہیں ! اور جو اسلام کے ستون سمجھے جاتے ہیں۔ان کے نزدیک قرآن کی تعلیم کوئی تعلیم ہی نہیں۔مگر حقیقت یہ ہے کہ انہیں معلوم ہی نہیں کہ قرآن کیا چیز ہے اور دنیوی علوم کی اس کے مقابلہ میں حیثیت کیا ہے۔دنیوی علوم کا کوئی بڑے سے بڑا ماہر ہے جو قرآن میں میرا مقابلہ کر سکے۔کوئی بڑے سے بڑا فلسفی، منطقی، سائیکالوجسٹ یا کسی اور شعبۂ علم کا ماہر میرے سامنے آئے اور قرآن پر کوئی اعتراض کرے اور دیکھے کہ میں اسی علم کے ذریعہ اُس کے اعتراض کو ردّ کرتا ہوں یا نہیں۔علماء آئیں اور میرے مقابل پر تفسیر لکھیں۔مگر میں جانتا ہوں خدا کے فضل سے کسی کے اندر اتنی طاقت نہیں۔وجہ یہ ہے کہ وہ ساری عمر فقہ اور حدیث رشتے رہتے ہیں