خطبات محمود (جلد 15) — Page 378
خطبات محمود رو ٣٧٨ سال ۱۹۳۴ء د لکھتے ہیں جب ہماری جماعت کی وفاداری کے کوئی معنے ہی نہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم لاکھوں روپیہ حکومت کی بہودی کیلئے خرچ کریں اور اپنی سینکڑوں قیمتی جانوں کو خطرات میں ڈالیں اور حکومت کی وفاداری ان معنوں میں کرتے چلے جائیں کہ نازک اور مشکل مواقع پر اس کی حمایت کریں۔پہلے فریق کی غلطی میں پیچھے ثابت کرچکا ہوں اور بتا چکا ہوں کہ وہ ایک شخص کا فعل ہے اور نہ اپنی ذات میں منفردانہ واقعہ ہے۔اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اگر یہ اکیلا فعل بھی ہو اور ایک شخص کا ہی فعل ہو تب بھی بعض دفعہ ایک شخص کا ہی فعل نہایت بڑے نتائج پیدا کر دیا کرتا ہے۔اور اگر ہمیں بعد میں بھی کبھی معلوم ہو کہ کسی ایک شخص کے فعل ہمارے سلسلہ کی آئندہ ترقی پر اثر پڑتا یا ہمارے اور گورنمنٹ کے تعلقات خراب ہوتے ہیں تو لازماً ہمارا فرض ہو گا کہ ہم سلسلہ کی عظمت اور گورنمنٹ سے اپنے تعلقات کی درستی کیلئے اس کا ازالہ کریں۔ورنہ مذہبی اور سیاسی دونوں لحاظ سے سلسلہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔اسلام میں اس کی مثال موجود ہے۔جب رسول کریم ﷺ نے ہوازن پر فتح پائی تو مال غنیمت میں ان کے بہت سے گلے اور ریوڑ بھی آئے، مکہ کے نو مسلموں کے متعلق رسول کریم ا چاہتے تھے کہ ان کے دلوں کو محبت اور پیار سے اسلام کی طرف مائل رکھیں، دوسرے اس لئے کہ مکہ والے سمجھتے تھے کہ شاید مسلمان ہماری پرانی مخالفت کی وجہ سے دل میں ہم - بغض رکھتے ہیں، رسول کریم ﷺ نے یہ ظاہر کرنے کیلئے کہ ہم پرانی مخالفتوں کو یاد نہیں رکھتے بلکہ بُھلا دیا کرتے ہیں، ریوڑوں کے ریوڑ ان میں تقسیم کر دیئے۔اس پر انصار میں سے ایک نوجوان جو اس حکمت کو نہیں سمجھتا تھا کھڑا ہوا اور اس نے کہا تلواروں سے تو ہماری خون ٹپکتا ہے مگر جب ہم نے جانیں قربان کر کے فتح حاصل کی تو مال گے والے لے گئے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہوازن کے معرکہ میں سب سے زیادہ قربانی انصار نے ہی کی تھی۔میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ جنگ حنین میں کفار کے مقابلہ میں ان نومسلموں کی وجہ سے جو صحابہ کے ساتھ جنگ میں شامل ہو گئے تھے اور کچھ ان کفار کی وجہ سے جو مسلمانوں کی طرف۔ہو کر لڑے، ان میں بھاگڑ پڑ گئی اور وہ میدان جنگ سے بھاگ نکلے یہاں تک کہ صرف بارہ آدمی رسول کریم ﷺ کے پاس رہ گئے۔اس وقت ہوازن کے چار ہزار تجربہ کار تیرانداز مسلمانوں پر تیروں کی بارش برسا رہے تھے اور مسلمانوں کے گھوڑے اور ان کے اونٹ