خطبات محمود (جلد 15) — Page 377
خطبات محمود ۳۷۷ سال ۱۹۳۴ء جس خط کا میں نے ذکر کیا ہے اس کا مضمون یہ ہے کہ ہم دیر سے محسوس کر رہے ہیں کہ انگریز لوگ بغیر شورش اور فساد کے کوئی بات نہیں مانا کرتے اور یہ کہ اس دوست کے نزدیک اب وقت آگیا ہے کہ ہم گورنمنٹ کے متعلق اس وفاداری کی تعلیم پر جو ہمارے سلسلہ میں موجود ہے، دوبارہ غور کریں اور سوچیں کہ کیا اس کی تشریح حد سے بڑھی ہوئی تو نہیں اور کیا وفاداری کا جو مفہوم ہم سمجھتے چلے آئے ہیں، وہ خوشامد اور نکما پن تو نہیں۔غرض اس دوست کے نزدیک ہمارے لئے ضروری ہے کہ ان تمام باتوں پر غور کر کے ہم پھر ایک رائے قائم کریں اور اس کے مطابق اپنے سلسلہ کی پالیسی کو ڈھالیں۔گو اس خط میں جو مجھے لکھا گیا، سلسلہ کی تعلیم کی عظمت کو قائم رکھا گیا ہے اور گو اسلام کی عظمت اور اس کے احکام کی پابندی کو بھی ملحوظ رکھ لیا گیا ہے لیکن اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اُس نوجوان کے دل میں اور ممکن ہے بعض اور نوجوانوں کے دلوں میں بھی یہ خیال ہے کہ سلسلہ کی وفاداری کی تعلیم کے جو سمنے لئے گئے ہیں، وہ زیادہ گرے ہوئے اور اپنے اندر تذلّل رکھنے والے ہیں۔مگر میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ حکومت کی وفاداری کی ہمارے سلسلہ کی طرف سے جو تعریف کی گئی ہے وہ ایسے وثوق اور یقین کے ماتحت کی گئی ہے کہ میں آج بھی اسے ویسا ہی صحیح اور درست سمجھتا ہوں جس طرح آج سے پہلے درست سمجھا کرتا تھا۔اور میں یقین رکھتا ہوں کہ یہی تعریف ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور رسول کریم ﷺ اور خدا تعالیٰ کے منشاء : کو پورا کرنے والی ہے۔اور خواہ آئندہ کیسے ہی خطرناک حالات پیش آئیں بغیر ایک منٹ کے توقف کے میں اسی راہ پر چلنے کو تیار ہوں جس پر ہم ہمیشہ سے چلتے آئے کیونکہ مجھے یقین کامل ہے کہ حکومت کی وفاداری کی ہمارے سلسلہ میں جو تعلیم ہے اور اس کی جو تشریح کی گئی ہے، وہ کیا بلحاظ ضرورت کے کیا بلحاظ خدا تعالی کے حکم اور اس کے منشاء کے اور کیا بلحاظ اسلام کے مفاد اور اس کی ترقی کے بالکل صحیح اور درست ہے اور اس میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔اُس دوست نے اپنے خط میں ایک واقعہ بھی پیش کیا ہے اور لکھا ہے کہ وہ ایک دفعہ پبلک پراسیکیوٹر کے سلسلہ میں سب انسپکڑی کیلئے بطور امیدوار پیش تھے، لاہور کے سینئر سپرنٹنڈنٹ مسٹرہارڈنگ کے سامنے جب انہوں نے اپنے آپ کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں احمدیہ جماعت میں سے ہوں اور احمد یہ جماعت وہ ہے جو حکومتِ برطانیہ کی ہمیشہ وفادار رہی ہے۔تو مسٹر ہارڈنگ نے کہا میں احمدیہ جماعت کی وفاداری کی کوئی حیثیت نہیں سمجھتا۔وہ