خطبات محمود (جلد 15) — Page 376
خطبات محمود ٣٤٦ سال ۱۹۳۴ء نشانات شرمندگی محسوس ہوتی اور میں خیال کرتا کہ میں نے جلد بازی سے کام لیا۔اس واقعہ کے علاوہ مجھے اپنی ساری زندگی میں کوئی ایسا واقعہ نظر نہیں آتا جبکہ میرے ہوش و حواس کھوئے گئے ہوں، جبکہ غصہ یا غیرت نے میری عقل کو کمزور کر دیا ہو اور جبکہ میری قوت فیصلہ میں کسی وجہ سے ضعف آگیا ہو بلکہ ہر حالت میں خواہ وہ خطرناک ہو یا معمولی، خواہ حکومت سے تعلق رکھنے والی ہو یا رعایا سے ہمیشہ خدا تعالیٰ کے فضل سے میری عقل میرے جذبات پر غالب رہی ہے اور میری دینی سمجھ میرے جوشوں کی راہنمائی کرتی رہی ہے اور یہی بات اس موقع پر بھی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس موقع پر میرے دل میں غیرت پیدا ہوئی اور سلسلہ کی ہتک اور سلسلہ کے متعلق آئندہ خطرات کو دیکھتے ہوئے میری طبیعت میں ایسا جوش پیدا ہوا جو بغیر تسلی اور اطمینان کے دینے کو تیار نہیں۔اور اِنْشَاءَ اللہ اس کے بغیر نہیں دبے گا مگر باوجود اس کے میں نے عقل نہیں کھوئی اور نہ اس راستہ کو ایک منٹ کیلئے بھی چھوڑا ہے جس کی سلسلہ احمدیہ ہمیں تعلیم دیتا ہے اور جس کی دنیا میں ہم ہمیشہ تبلیغ کرتے رہتے ہیں۔پس میری تمام سکیم اور میرے تمام جذبات کے چاروں کونے اور اس کی بنیادیں ان پر ہیں جن کو شریعت نے قائم کیا اور جن کو سلسلہ احمدیہ نے دنیا پر ظاہر کیا اور میری کا ایک باریک ذرہ بھی ان بنیادوں سے باہر نہیں جن کو شریعتِ اسلام اور سلسلہ احمدیہ نے قائم کیا ہے۔پس مجھے ان لوگوں کی باتیں ناپسند ہیں جو کہتے ہیں کہ یہ کون سی اہم بات تھی شخص کے فعل پر اتنا جوش دکھانا نہیں چاہیئے تھا اور گو میں نہیں کہہ سکتا اس قسم کی بات کہنے والے بہت سے لوگ ہیں کیونکہ ایک سے زیادہ خط مجھے اس بارہ میں نہیں آیا۔لیکن چونکہ ممکن ہے کہ بعض اور بھی لوگ ہوں جو یہ خیالات رکھتے ہوں اس لئے میں نے ”لوگ" کا لفظ استعمال کیا۔اس لکھنے والے نے لکھا ہے کہ حکومت کی طرف سے جو نوٹس دیا گیا وہ ایک شخص کا فعل ہے۔پس اس سے زیادہ ہمیں اس کو اہمیت نہیں دینی چاہیے۔میں نے اپنے گزشتہ خطبات میں بتایا ہے کہ یہ ایک شخص کا فعل نہیں اور نہ ہی ہمارے متعلق حکومت کا یہ ایک فعل ہے بلکہ افعال کا ایک لمبا سلسلہ ہے جس میں کچھ مقامی ضلع کے افسر اور کچھ مرکزی گورنمنٹ کے افسر شامل ہیں مگر دوسری طرف جو مخط آیا ہے اس کے لحاظ سے ممکن ہے کہ اس قسم کے خیالات رکھنے والے لوگ بھی ہماری جماعت میں ہوں اس لئے میں وضاحت سے بعض باتیں کہہ دینا چاہتا ہوں۔ایک