خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 372

خطبات محمود ۳۷۲ سال ۶۱۹۳۴ خیال گزرا۔لیکن میں تمہیں بتلاتا ہوں کہ ایک اس حدیث کے ظاہری معنی بھی ہیں اور وہ یہ کہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ جس قوم میں تفرقہ اور شقاق پیدا ہوتا ہے وہ اپنی فتح کو پانچ سو سال پیچھے ڈال دیتی ہے قرآن کریم نے نہایت وضاحت کے ساتھ فتح کو جنت سے تعبیر کیا ہے اس حدیث کے مطابق وہ قوم جو آپس میں صلح اور اتحاد سے رہتی ہے، دوسری اقوام سے پانچ سو سال پہلے دنیا کی فاتح بنتی ہے۔پس ہم میں سے ہر وہ شخص جو اپنے کسی بھائی سے محبت نہیں کرتا، ہر وہ شخص جو اپنے کسی بھائی سے بغض اور عناد رکھتا ہے، وہ سلسلہ احمدیہ کی فتح کو پانچ سو سال پیچھے ڈال دیتا ہے اور کیا تم سمجھتے ہو کہ وہ شخص ہمارا بھائی سمجھا جا سکتا ہے؟ اگر کوئی ایک دن کے لئے بھی سلسلہ کی فتح کو پیچھے ڈالتا ہے تو ہمارا دوست نہیں بلکہ دشمن ہے پھر وہ شخص ہمارا کتنا بڑا دشمن ہے جو سلسلہ کی فتح کو پانچ سو سال پیچھے ڈال دیتا ہے اس لئے جاؤ اور اپنے بھائیوں سے صلح کرو، جاؤ اور اپنے قصوروں کی معافی مانگ کر یکجان ہو جاؤ۔میں تمہیں بتاتا ہوں کہ جس وقت میں نے جماعت کے لئے یہ حکم تجویز کیا' اس وقت سب سے پہلے میں نے اللہ تعالیٰ سے کہا کہ اے خدا میرا دل صاف ہے اور مجھے کسی سے بغض و کینہ یا رنجش نہیں سوائے ان کے جن سے ناراضگی کا تو نے حکم دیا ہے لیکن اگر میرے علم کے بغیر کسی شخص کا بغض یا اس کی نفرت میرے دل کے کسی گوشہ میں ہو، تو الہی میں اسے اپنے دل سے نکالتا ہوں اور تجھ سے معافی اور مدد طلب کرتا ہوں۔مگر میرا دل گواہی دیتا ہے کہ میں نے کبھی کسی شخص سے بغض نہیں رکھا بلکہ شدید دشمنوں کے متعلق بھی میرے دل میں کبھی کینہ پیدا نہیں ہوا۔ہاں ایک قوم ہے جس کو میں مستثنی کرتا ہوں اور وہ منافقین کی جماعت ہے۔مگر منافقین کا قطع کرنا یا انہیں جماعت سے نکالنا یہ میرا کام ہے تمہارا نہیں۔جس کو میں منافق قرار دوں اس کے متعلق جماعت کا فرض ہے کہ اس سے بچے لیکن جب تک میں کسی کو جماعت سے نہیں نکالتا تمہیں ہر ایک شخص سے صلح اور محبت رکھنی چاہیے اور آپس میں بھائی بھائی بن کر رہنا چاہیئے۔میں ان قربانیوں کے سلسلہ میں جن کا تمام جماعت سے مطالبہ کرنا چاہتا ہوں بعض اور باتیں بھی کہنا چاہتا تھا لیکن چونکہ وہ اس سکیم کا حصہ ہیں جسے میں بیان کروں گا اس لئے میں انہیں اس کے ساتھ ہی بیان کروں گا۔سردست ایک اور اعلان کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ مجھے فوراً جلد سے جلد ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے جو سلسلہ کے لئے اپنے وطن چھوڑنے کے لئے تیار ہوں۔اپنی جانوں کو خطرات میں ڈالنے کے لئے تیار۔