خطبات محمود (جلد 15) — Page 366
خطبات محمود ۳۶۶ سال ۱۹۳۴ء رکھتا ہو میری اس تحریک پر آگے آجائے گا اور وہ شخص جو خداتعالی کے نمائندہ کی آواز پر کان نہیں دھرے گا اس کا ایمان کھویا جائے گا۔پس بے شک اس قدر لوگوں کا سکیم کے معلوم ہونے سے پہلے ہی اپنے آپ کو پیش کر دینا ایک مبارک بات ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف منہ کے دعوے سے خوشی حاصل ہو سکتی ہے، بڑی قربانی کی امید تبھی ہو سکتی ہے جب اس پہلے بعض چھوٹی قربانیاں انسان کرچکا ہو۔پس میں یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہوں کہ کس طرح یقین ہو کہ آپ لوگ اس بڑی قربانی کے لئے تیار ہوں گے جبکہ جماعت کا بڑا حصہ باوجود بار بار توجہ دلانے کے چندوں میں بھی سست ہے۔اگر ایک شخص ہمارے پاس آئے اور کسے میں دس روپے دینے کے لئے تیار ہوں لیکن تقاضا پر ایک روپیہ بھی نہ دے تو کس طرح سمجھا جائے کہ اس نے سچا وعدہ کیا۔پس میں صرف آپ لوگوں کے وعدوں کو نہیں دیکھنا چاہتا بلکہ میں آپ لوگوں کی قربانی کا حقیقی ثبوت دیکھنا چاہتا ہوں۔میں پہلے دیکھنا چاہتا ہوں کہ کیا آپ چھوٹی چھوٹی قربانیوں کے لئے بھی تیار ہیں یا نہیں۔اس کے یہ معنی نہیں کہ میں وہ سکیم چھپالوں گا میں جس قدر باتیں تمہید میں کہنا چاہتا تھا وہ ختم کر چکا اور اب خدا تعالیٰ کے فضل سے اگلی دفعہ وہ سکیم بیان کرنی شروع کردوں گا۔مگر مجھے پوری تسلی تب ہوگی جب مجھے یہ یقین ہو جائے کہ ادنیٰ قربانی جس کا آپ سے سلسلہ دیر سے مطالبہ کر رہا ہے اسے آپ نے پورا کر دیا۔گزشتہ سال چندوں میں اتنی ہزار کی کمی تھی اور اس سال بھی بار بجائے کم ہونے کے بڑھ رہا ہے۔یہ پس جبکہ جماعت کے بعض افراد ماہواری چندہ بھی نہیں ادا کرتے اور اس معمولی قربانی کے کرنے کے لئے بھی تیار نہیں تو میں کس طرح سمجھ لوں کہ وہ بڑی قربانی پر آمادہ ہیں۔مجھے چندوں کی ادائیگی کا نام قربانی رکھتے ہوئے بھی شرم آتی ہے مگر اسے قربانی ہی فرض کر لیا جائے تب بھی ہمیں سمجھنا چاہیے کہ جب ہم اونی قربانیوں سے دریغ کریں گے تو اعلیٰ قربانیوں کے کرنے کا حوصلہ ہمیں کس طرح ہوگا۔منہ کی باتیں انسان کو کبھی کامیاب نہیں کیا کرتیں۔احراریوں کو دیکھ لو وہ منہ کی لاف و گزاف میں سب سے بڑھے ہوئے ہیں۔ہر اختلاف پر حکومت کو دھمکی دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا حکومت کو معلوم نہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور ہم گورنمنٹ کا تختہ الٹ کر رکھ دیں گے۔وہ بارہا ایسے دعوے شائع کر چکے ہیں لیکن شور مچا کر بیٹھ جایا کرتے ہیں اور آج تک انہوں نے گورنمنٹ کا تختہ الٹ کر کبھی نہ دکھایا۔تحریک