خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 355

خطبات محمود ۳۵۵ سال ۱۹۳۴ تو افسروں تک انہیں دہراتے رہتے ہیں۔جس کے صاف معنے یہ ہیں کہ اصل غرض ہمیں بد نام کرنا ہے نہ کہ حقیقت معلوم کرنا۔(۴) جماعت کے کارکنوں اور جماعت کو حتی کہ خود امام جماعت احمدیہ کو بلاوجہ پریشان کیا جاتا ہے اور ان کا وقت ضائع کیا جاتا ہے۔(۵) ہمارے خلاف شرارت کرنے والے سرکاری ملازموں کے متعلق اول تحقیق ہی نہیں کی جاتی اگر تحقیق کی جاتی ہے تو پھر ان کے جھوٹے ثابت ہو جانے پر بھی ان کو سزا نہیں دی جاتی جس سے شرارتیوں کی جرات بڑھتی ہے۔(۲) ذمہ دار سرکاری افسر جماعت کے کارکنوں اور امام جماعت احمدیہ کی ہتک کرتے ہیں اور پھر اس پر ناز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بیشک جاکر بالا افسروں سے کہہ دو۔(۷) پہلے ہم سے تعاون کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور جب ہم حکام کی بات تسلیم کر لیتے ہیں تو دوسرے افسر ہمارے اس فعل کی تخفیف کرتے ہوئے آپس میں ایک دوسرے پر جھوٹ کا الزام لگا دیتے ہیں۔(۸) سرکاری محکموں میں اگر احمدی ہوں تو ان کے کاموں کو جماعت احمدیہ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔پس ان امور سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت پنجاب میں بعض ایسے افسر موجود ہیں جن کی غرض سوائے اس کے کچھ نہیں کہ جماعت کو کمزور اور بدنام کیا جائے۔اب میں جماعت کے سامنے یہ مثالیں رکھ کر کہتا ہوں کہ کیا ان واقعات کے ہوتے ہوئے وہ امید کر سکتے ہیں کہ ہمارے کارکن جماعت کے کاموں کو اسی سرگرمی سے کر سکتے ہیں جس سرگرمی سے انہیں کام کرنے چاہئیں۔میں نے یہ تفصیل اس لئے بتائی ہے کہ شاید بعض لوگوں کے دل میں خیال گزرتا ہو کہ حکومت سے ایک غلطی ہوئی ہے اسے جانے دینا چاہیئے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ ڈیڑھ سال سے ایسے واقعات متواتر ہو رہے ہیں اور میں نے اوپر صرف چند مثالیں بیان کی ہیں ورنہ اور بہت سے واقعات اوپر کے نتائج کی تصدیق کرتے ہیں اور یہ ایک لمبا سلسلہ ہے جو جماعت پر مصائب و مشکلات کے رنگ میں گزر رہا ہے۔پس ان حالات کے ماتحت میں کہنے پر مجبور ہو گیا ہوں کہ گورنمنٹ کا فرض ہے کہ ان افسروں کو ڈانٹے جنہوں نے یہ کام کیا اور ان سے دریافت کرے کہ انہوں نے کیوں ایسا کیا۔اگر سلسلہ کے مفاد کو نقصان پہنچنے