خطبات محمود (جلد 15) — Page 319
سال ۱۹۳۴ء خطبات محمود مگر ہم اور اگر گورنمنٹ پنجاب نے توجہ نہ کی تو گورنمنٹ آف انڈیا کو توجہ دلاؤں گا اور اگر اس نے بھی توجہ نہ کی تو ہوم گورنمنٹ کے پاس اپیل کروں گا اور اگر اس نے بھی اس امر پر کوئی توجہ نہ کی تو میں انگلستان کی پبلک اور دوسری تمام برٹش امپائر کی پبلک کے سامنے یہ معاملہ پیش کروں گا اور اگر یہ سب انصاف کی طلب اور اپیلیں رائگاں گئیں تو اس وقت میں وہ تدابیر اختیار کروں گا جو اپنی عزت اور سلسلہ کی حفاظت کیلئے میرے نزدیک ضروری ہوں گی کسی صورت میں بھی قانون شکنی نہیں کریں گے اور کسی صورت میں بھی اپنے مقررہ اصولوں کو نہیں چھوڑیں گے۔بیشک یہ ایک عجیب بات معلوم ہوتی ہے کہ گورنمنٹ کی وفاداری کرتے ہوئے کس طرح اپنی عزت کی حفاظت کی جائے۔مسٹر گاندھی جو صرف تشدد کے مخالف ہیں، ان کی عدم تشدد کی پالیسی بھی بہت لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی تو یہ سمجھنا تو اور بھی زیادہ مشکل ہے کہ ہم قانون شکنی بھی نہ کریں گے اور اپنے گزشتہ اصولوں کو بھی نہیں چھوڑیں گے ، پھر بھی اپنی ہتک کا ازالہ کرا کے چھوڑیں گے۔لیکن جس شخص کو اللہ تعالی نے ایسے مقام پر کھڑا کیا ہو جو دُنیا کی اصلاح کا مقام ہے اللہ تعالی اسے مسٹر گاندھی اور ان کے ساتھیوں سے زیادہ عقل دیتا اور اس کی تدابیر کو دنیا میں خود کامیاب کیا کرتا ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ کو آخر تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ اس کی غلطی تھی اور ہم حق پر تھے۔باوجود یکہ ہم نہ تشدد کریں گے اور نہ سول نافرمانی، باوجود یکہ ہم گورنمنٹ کے قانون کا احترام کریں گے، باوجود اس کے کہ ہم ان تمام ذمہ داریوں کو ادا کریں گے جو احمدیت نے ہم پر عائد کی ہیں۔اور باوجود اس کے کہ ہم ان تمام فرائض کو پورا کریں گے جو خدا اور اس کے رسول نے ہمارے لئے مقرر کئے پھر بھی ہماری سکیم کامیاب ہو کر رہے گی۔کشتی احمدیت کا کپتان اس مقدس کشتی کو پُر خطر چٹانوں میں سے گزارتے ہوئے سلامتی کے ساتھ اسے ساحل پر پہنچا دے گا۔یہ میرا ایمان ہے اور میں اس پر مضبوطی سے قائم ہوں۔جن کے سپرد الہی سلسلہ کی قیادت کی جاتی ہے ان کی عقلیں اللہ تعالی کی ہدایت کے تابع ہوتی ہیں اور وہ خدا تعالیٰ سے نور پاتے ہیں۔اور اس کے فرشتے ان کی حفاظت کرتے ہیں اور اس کی رحمانی صفات سے وہ مؤید ہوتے ہیں اور گو وہ دنیا سے اُٹھ جائیں اور اپنے پیدا کرنے والے کے پاس چلے جائیں مگر ان کے جاری کئے ہوئے کام نہیں رکھتے اور اللہ تعالی انہیں مفلح اور منصور بناتا ہے۔یہ مت گمان کرو کہ میرے اس دیر کرنے میں مبادا وہ سکیم تمہارے سامنے نہ آئے