خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 307

خطبات محمود ۳۰۷ سال ۱۹۳۴ء کا اظہار کیا ہے۔یا پھر یہ بات ہے کہ نچلے حکام نے افسرانِ بالا کو دھوکا دیا ہے۔حکومت نے لکھا ہے کہ اس نوٹس سے ہمارا منشاء ہتک نہیں تھا۔میں نے فیصلہ کیا تھا اور اس جمعہ تک بات کو ملتوی کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اگر حکومت نے کہہ دیا کہ غلطی ہوئی ہے تو میں اس بات کو چھوڑدوں گا لیکن اس نے اپنی جھوٹی عزت کا خیال کیا ہماری حقیقی ہتک کا کچھ خیال نہ کیا۔کسی کو جوتا مار کر کہہ دینا کہ میرا مقصد ہتک نہیں تھا عجیب مضحکہ خیز امر ہے۔منشاء کا پتہ تو ہمیشہ واقعات سے ہوا کرتا ہے جب میں نے نہ سرکلر جاری کیا نہ جاری کرنے والے نے مجھے سے پوچھا، پھر اسے منسوخ بھی کردیا گیا اور افسروں کو اطلاع بھی دے دی گئی تو پھر سزا کے ستوجب یہاں کے افسر ہیں اور حکومت کا فرض تھا کہ انہیں سزا دیتی اور ہم سے صاف کہہ دیتی کہ غلطی ہو گئی ہے اس سے اس کی عزت اور وقار میں اضافہ ہوتا نہ کہ کمی۔کانگرس سے ہمیشہ ہماری یہی جنگ رہی ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم غلام ہیں مگر ہم کہتے ہیں کہ ہم ہرگز غلام نہیں ہیں اب ہم انہیں کیا منہ دکھائیں گے کیونکہ اب تو پنجاب گورنمنٹ نے اپنے عمل سے ثابت کردیا ہے کہ وہ ہندوستانیوں کو غلام سمجھتی ہے اور ان کی عزت کی قیمت اس کی نظر میں ایک کوڑی کی بھی نہیں ہے۔اس حکم کے جاری کرنے والے افسروں نے یہ خطرناک غلطی کی ہے کہ ہم پر اس کام کا الزام لگایا ہے جسے ہم حرام سمجھتے ہیں اور جس کیلئے ہم باوجود اس کے کہ اس نے ہماری عزت کا پاس نہیں کیا تیار نہیں ہیں۔وگرنہ غالب کی طرح ہم بھی کہہ سکتے تھے کہ - بے وفا تو بے وفا ہی سہی۔مگر نہیں ہمارے مذہب نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ حکومت کے وفادار رہیں اس لئے وہ اگر ہمیں قید کر دے، پھانسی دے دے تب بھی ہم وفادار ہی رہیں گے اور ہر عمل سے اس کا جھوٹا ہونا ثابت کریں گے۔میں نے اس جگہ گورنمنٹ کی جگہ افسران کا لفظ اس لئے استعمال کیا ہے کہ میرے نزدیک اس کی ذمہ دار گورنمنٹ نہیں بلکہ خاص افسر ہیں اور محض دفتری کارروائی کے ماتحت یہ حکم دیا گیا ہے ورنہ گورنمنٹ کے کئی ممبروں سے میں نے پوچھا ہے وہ کہتے ہیں ہمیں اس کا علم ہی نہیں اور عین ممکن ہے ہزایکسی لینسی گورنر کو بھی علم نہ ہو، ممکن ہے بعض انگریز اور ہندوستانی ممبروں کو بھی اس کا علم نہ ہو لیکن بہر حال یہ گورنمنٹ کے نام سے جاری ہوا ہے اور اس کی ذمہ داری اسی پر ہے اور اس کا فرض ہے کہ اس غلطی کا اعتراف کرے اور کہے ) کہ آئندہ ایسا نہیں ہو گا۔مگر جب تک حکومت کی طرف سے یہ ہتک اور احراریوں کی طرف