خطبات محمود (جلد 15) — Page 306
خطبات محمود ۳۰۶ سال ۱۹۳۴ء جھولی چکے ہیں۔وہ صاف کہہ رہے ہیں کہ ہم اسی وجہ سے ان کے مخالف ہیں۔(ہفتم) حکومت نے یہ نوٹس دے کر ایک امن پسند جماعت کی ہتک کی کیونکہ اس نے قرار دیا کہ جو احمدی یہاں آئیں گے فساد کریں گے گویا میں بھی فسادی اور جماعت احمدیہ بھی فسادی ہے اور امن پسند صرف احراری ہیں۔کیا عجیب بات ہے کہ جب حکومت پر مصیبت آئے تو وہ ہم سے استمداد کرتی ہے اس کی مصیبت کے وقت ہمارے لیکچرار جاتے اور مخالف تحریکوں کا مقابلہ کرتے ہیں، جنگ میں ہم نے تین ہزار والٹیئر ز دیئے، روپیہ ہم خرچ کرتے تھے مگر آج احراریوں کی حفاظت کیلئے وہ ہمیں باغی بتا رہی ہے۔(هشتم) حکومت نے ناانصافی کی جب اس نے اس رنگ میں ہمیں نوٹس دیا حالانکہ گزشتہ مواقع کی طرح وہ اب بھی خواہش امداد کر سکتی تھی۔میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ ہم سے بھی غلطی ہو سکتی ہے اور یہ نہیں کہتا کہ ہم نے کبھی غلطی نہیں کی لیکن حکومت کا پہلے سلوک ہم سے یہ تھا کہ ہر ایسے موقع پر وہ اپنی خواہش کا اظہار کر دیتی تھی چونکہ وہ جانتی تھی کہ ہم تعاون کرنے والے ہیں۔حکام کی طرف سے چٹھی آجاتی تھی کہ جماعت کو یہ ہدایت کر دیں اور ہم کر دیتے تھے۔پھر آج بغیر کسی وجہ کے یہ نوٹس کیوں دیا گیا۔اس کے معنی یہ ہیں کہ یا ہم میں تبدیلی ہو گئی ہے یا حکومت میں۔ابھی مئی کا واقعہ ہے کہ وائسرائے ہند کی طرف میں نے ایک خط لکھا تھا کہ جماعت احمدیہ کے ایڈریس کے جواب میں جو کچھ آپ نے فرمایا تھا اس سے شبہ ہوتا ہے کہ شاید حکومت کا خیال ہے کہ ہم بعض مواقع پر اس سے تعاون نہیں کرتے۔اس کے جواب میں ان کے پرائیویٹ سیکرٹری نے لکھا ہے کہ ہز ایکسی لینسی کو یہ خیال ہرگز نہیں بلکہ حضور وائسرائے اس کے برعکس ہمیشہ سے جماعت احمدیہ کو سب سے زیادہ قانون کی پابند اور وفادار جماعتوں میں سے ایک جماعت سمجھتے چلے آتے ہیں۔تو ہندوستان کا افسر اعلیٰ کہتا ہے کہ جماعت بهترین قانون کی پابند اور وفاداری کرنے والی ہے مگر پنجاب کی گورنمنٹ کے کچھ افراد کہتے ہیں کہ تم بغاوت کرنے والے ہو۔بس دو ہی صورتیں ہیں۔یا ان میں تبدیلی ہوئی ہے یا ہم میں۔لیکن مئی کے بعد اس قدر قلیل عرصہ ہے کہ ہمارے اندر کوئی عظیم الشان تغیر مانا نہیں جاسکتا اور دوسری صورت یہی ہے کہ سرکاری افسروں میں کوئی ایسا شخص ہے جو ایسے وجوہ کی بناء پر جن کا ہمیں علم نہیں، ہمارا دشمن ہے اور اس نے یہ نوٹس دے کر اپنے عناد