خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 303 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 303

خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء بھی جاتا تو بھی وہ بحیثیت ناظر کے نہیں بلکہ ذاتی فرد کی حیثیت سے ہوتا اور اگر کوئی نقصان ہو جاتا تو وہ میرا حوالہ بھی نہیں دے سکتا تھا۔جم) صدر انجمن ایک باقاعدہ رجسٹرڈ باڈی ہے اور وہ اس کے ماتحت براہ راست حکومت کے سامنے ذمہ دار ہے۔(ششم) یہ امر ثابت ہے کہ آدمی خود حفاظتی کیلئے بلائے گئے تھے اور اس جگہ پر جہاں ان کا آنا مذہبی فرض ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہاں آنے کی بار بار تاکید کی ہے اور اس سے حکومت کا روکنا مذہبی مداخلت ہے۔اس جگہ ان کے جن کو بلایا گیا مقدس مقامات ہیں اور ان کی حفاظت کیلئے انہیں اس وقت بلایا گیا جب دشمن ان کے خلاف شورش کرنے کیلئے یہاں جمع ہوئے تھے۔(ہفتم) جو نہی حکام نے انتظامات کی مضبوطی کا یقین دلایا انہیں کہہ دیا گیا کہ آدمی نہیں بلائے جائیں گے۔(هشتم) سولہ اکتوبر کو گورداسپور کے حکام کو اس کا علم ہو گیا تھا وہاں ٹیلیفون اور ٹیلیگراف دونوں موجود ہیں لیکن سترہ کو تین بجے کی گاڑی سے ایک سپیشل انسپکٹر یہ احکام لے کر لاہور سے چلتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ میں گھنٹہ کے وقفہ کے باوجود حکام ضلع گورداسپور نے پنجاب گورنمنٹ کو مطلع نہیں کیا تا حکومت اس غلط فہمی میں مبتلاء نہ ہوتی۔ان کیلئے لازم تھا کہ ہمارے وعدہ کو حکام بالا تک پہنچا دیتے۔(نهم) حکومت کو علم تھا کہ سرکلر جاری کرنے والا ناظر ہے۔اور جیسا کہ مرزا معراج الدین صاحب نے بیان کیا، وہ سرکلر یا اس کی نقل حکومت کے پاس پہنچ چکی تھی۔خواہ ! وہ قادیان سے گئی یا باہر سے، بہر حال حکومت کو اس کا علم تھا اور یہ بھی وہ جانتی تھی کہ اس کا جاری کرنے والا میں نہیں ہوں۔(دہم) اگر یہ فرض بھی کرلیا جائے کہ اس کا جاری کرنے والا میں ہی تھا یا اسے منسوخ کرنے سے انکار کر دیا گیا تھا تب بھی یہ رسول نافرمانی یا حکومت کو تہہ و بالا کر دینے والا مجرم نہیں ہو سکتا کیونکہ اس سے پہلے کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا۔ڈپٹی کمشنر وغیرہ حکام کی خواہش یہ تھی لیکن حاکم کی خواہش اور حکم میں فرق ہوتا ہے۔کیا گورنمنٹ اس عام بات کو بھی نہیں سمجھ سکتی کہ یہ قانون محکام کی خواہش کو نہیں بلکہ ان کے احکام کو رو کرنے کے مواقع کیلئے وضع