خطبات محمود (جلد 15) — Page 291
خطبات محمود ۲۹۱ سال ۱۹۳۴ء کر لیا ہے کیونکہ ہمیں وہاں جانے سے روک دیا گیا اور سننے سنانے والے دونوں باہر سے آئے۔پس ان لوگوں کا یہاں آنا سوائے فساد کے کسی اور غرض سے نہیں ہو سکتا۔ہم جو جلسے کرتے ہیں وہ تبلیغی ہوتے ہیں، ہم کبھی یہ نہیں کہتے کہ پولیس مقرر کرو کوئی ہماری تقریریں سننے نہ آئے بلکہ ہمارا ڈھنڈورہ یہ ہوتا ہے کہ لوگو آؤ اور سنو اور سمجھو لیکن ان کا ڈھنڈورہ یہ تھا کہ ہرگز نہ آؤ۔پس ہمارے جلسوں کے اغراض واضح ہیں۔مگر ان کا یہ حال تھا کہ ایک گاؤں سکو ہا کو ایک احمدی نوجوان جا رہا تھا کیونکہ سکوہا جانے کا وہی رستہ ہے۔اس کی جیب میں دو اشتہار تھے جنہیں دیکھ کر ان لوگوں نے جو قادیان فتح کرنے آئے تھے، شور مچادیا کہ یہ ٹریکٹ تقسیم کر رہا ہے۔فرض کرو وہ شخص ٹریکٹ ہی تقسیم کرنے کیلئے گیا تھا لیکن اگر ان کی غرض تبلیغ ہوتی تو وہ اس پر اس قدر شور نہ مچاتے بلکہ خوش ہوتے کہ ایک آدمی آگیا ہے جسے ہم تبلیغ کر سکیں گے۔مگر انہوں نے تو شور مچادیا کہ کیوں آیا ہے۔اسی طرح گورنمنٹ کا حکم تھا اور اعلان تھا کہ وہ لوگ احمدیوں کے محلوں میں نہ آئیں لیکن ہماری طرف سے ایسا کوئی اعلان نہ تھا۔وہ لوگ برابر آتے رہے اور ہمارے سب آدمی مقرر تھے کہ آنے والوں کے ساتھ پھریں۔انہیں اپنے ادارات دکھائیں اور حسب موقع تبلیغ بھی کریں۔پس یہ صاف ثابت ہے کہ ان کا نیہ جلسہ نہ تبلیغی تھا نہ تعلیمی، صرف فساد کیلئے تھا اور ان حالات میں کیا گورنمنٹ کا فرض نہ تھا کہ اسے روکتی۔موضع معین الدین پور ضلع گجرات میں حکومت نے ہمارا جلسہ روک دیا تھا۔اور انسپکٹر پولیس نے یہاں تک کہا تھا کہ اگر احمدی اس گاؤں میں داخل ہوئے تو میں فائر کردوں گا۔ہم نے سپرنٹنڈنٹ پولیس اور ڈپٹی کمشنر ضلع کو اس کی اطلاع دی بلکہ پنجاب گورنمنٹ کو بھی اطلاع دی مگر کسی نے کوئی توجہ نہیں کی اور یہی جواب دیا جاتا رہا کہ وہاں احمدی تھوڑے ہیں اور دوسرے لوگ غالب ہیں۔مگر یہاں احمدی غالب اور دوسرے لوگ تھوڑے تھے۔احمدی یہاں سات ہزار کے قریب ہیں اور دوسرے لوگ صرف سات آٹھ سو ہیں۔پھر یہ لوگ مالک نہیں ہیں، ان کے گزاروں کا انحصار ہم پر ہے، ترقی بھی ہمارے ذریعہ سے ہو رہی ہے، تعلیمی انسٹی ٹیوشنز بھی یہاں ہماری ہی ہیں غرضیکہ جو فوقیت معین الدین پور میں دوسروں کو حاصل تھی، اس سے بہت بڑھ کر ہمیں یہاں حاصل ہے، پھر یہ ہمارا مرکز ہے، یہاں ہمارے مذہبی مقامات ہیں مگر وہاں جلسہ کو روکنے کے متعلق ہم نے