خطبات محمود (جلد 15) — Page 269
خطبات محمود ۲۶۹ سال ۱۹۳۴ء ہوتا ہے تو وہ خود سمجھ سکتا ہے کہ کیا کرنا چاہیئے۔اور کس طرح کرنا چاہیے۔جماعت کا کام صرف یہ ہے کہ ہوشیار اور بیدار رہے۔خبر رکھے کہ دشمن کیا کرتا ہے۔اور پھر مرکز کی طرف سے ہدایات کی منتظر رہے پھر جو حکم ملے، پوری فرمانبرداری کے ساتھ اس پر عمل کرے۔اور یہ خیال بھی کسی کے دل میں نہ آئے کہ اس طرح مال و جان یا عزت و آبرو پر کسی قسم کا حرف آئے گا یہی کامیابی کی راہ ہے جو اللہ تعالٰی نے بتائی ہے۔ہمیں اس بات کی فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ کسی فتنہ کا کیا نتیجہ نکلے گا۔انسان کو ڈر ہمیشہ غیب یعنی لاعلمی کی حالت میں ہے۔کسی سوراخ میں خواہ دس ہزار کی تھیلی ہی پڑی ہو مگر انسان اس میں ہاتھ ڈالتے ہوئے ڈرے گا کہ کہیں سانپ نہ ہو۔لیکن اگر اسے یقین ہو کہ کسی سوراخ میں سانپ ہے تو شاید اسے دلیری سے پکڑ ہی لے۔لوگ اندھیرے میں جاتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ سانپ ، بچھو وغیرہ نہ کاٹ لے لیکن جب سانپ یا بچھو سامنے آجائے تو اسے مار لیتے ہیں۔پس بُزدل تو بہر حال ڈرتا ہے لیکن دلیر کو جب خوف کی حقیقت معلوم ہو جائے تو اس کے مقابلہ کیلئے تیار ہو جاتا ہے مگر جس جماعت کو یقین ہو کہ ہم ہی جیتیں گے اور فتح پائیں گے دشمن سے اسے کیا خوف ہو سکتا ہے۔جس طرح ہم میں سے ہر ایک کو یقین ہے کہ اس کا فلاں باپ اور فلاں ماں ہے، جس طرح اسے اپنے بچوں اور بیوی کے متعلق یقین ہے، جس طرح وہ اپنے دوستوں کو جانتا ہے، جس طرح اسے یہ علم ہے کہ ہم ہندوستان کے باشندے اور قادیان کے والے ہیں، جس طرح سورج اور چاند کے وجود پر یقین ہے اسی طرح بلکہ اس سے بڑھ کر ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ احمدیت خدا کی طرف سے ہے اور وہ بہر حال غالب ہوگی۔پس کسی فتنہ کے نتیجہ کے متعلق تو ہمیں شبہ ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ ہمارے لئے نتیجہ ظاہر ہے اور اسے کوئی بدل نہیں سکتا- جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا هُوَ كَائِنُ ہے۔جو کچھ ہوتا ہے اس پر خداتعالی کی روشنائی خشک ہو چکی ہے۔خدا ہی ہے جو اسے بدل سکتا ہے۔مگر وہ خود کہہ چکا ہے کہ بعض سنتیں ایسی ہیں جنہیں ہم بھی نہیں بدلا کرتے اس لئے نتائج کے لحاظ سے ہم خدا تعالی کے فضل سے بے فکر ہیں۔جو مخالفتیں ہمارے لئے مقدر ہیں اور جو فتنے ہم نے دور کرنے ہیں، ان کے مقابل میں اس موجودہ فتنہ کی حقیقت اتنی بھی نہیں جتنی کہ ایک ہاتھی کے مقابلہ میں چیونٹی کی ہو سکتی ہے۔جو مشکلات ہمارے لئے مقدر ہیں، وہ اتنی بڑی ہیں کہ بعض احمدیوں کے خیال میں بھی نہیں آسکتیں۔صرف وہی لوگ جانتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ رہنے