خطبات محمود (جلد 15) — Page 254
خطبات محمود ۲۵۴ سال ۱۹۳۴ء وہ ڈھوکر کمائے گا تو اس کے محلہ والوں میں سے ہی کئی اسے اس سے اچھی نوکری دینے پر آمادہ ہو جائیں گے۔پہلے تو لوگ شرم کی وجہ سے نہیں کہتے کہ آپ یہ معمولی نوکری کرلیں کیونکہ سمجھتے ہیں دوسرا اسے ہتک نہ سمجھے۔جیسے بعض خاندان بڑے سمجھے جاتے ہیں ان کی لڑکیوں کے رشتے کیلئے کوئی اس خوف سے پوچھتا ہی نہیں کہ ایسا نہ ہو ناراض ہو جائیں۔اسی طرح ایک وکیل کو کوئی شخص یہ کہنے کی جرات نہیں کر سکتا کہ آپ میری دکان پر پندرہ روپے کی نوکری کرلیں لیکن اگر وہ مزدوری کرنے لگ جائے تو دوسرا شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ آپ یہ کام کیوں کرتے ہیں میرے پاس پندرہ روپے کی جگہ ہے۔پھر ممکن ہے دوسرا پچیس روپیہ ماہوار پیش کردے کہ میری دکان پر آجاؤ تیسرا اس سے بھی زیادہ دینے پر تیار ہو جائے اور اس طرح ممکن ہے کہ وہ سو ڈیڑھ سو روپیہ تک جاپہنچے۔جو شخص گھر میں بھوکا پڑا رہے وہ جسمانی موت کیلئے تیار ہو جاتا ہے اور جو دستِ سوال دراز کرے وہ اخلاقی موت مرتا ہے جب دونوں صورتیں نہ ہوں تو دنیا ایسے شخص کو عزت دیتی ہے۔میرے پاس کئی ایسے لوگ آتے ہیں۔میں پوچھتا ہوں کام کیوں نہیں کرتے؟ وہ کہتے ہیں ملتا نہیں اور اگر بتایا جائے کہ فلاں کام ہے تو کہیں گے کہ اس میں تو پندرہ روپے ملتے ہیں۔انہیں یہ سمجھ ہی نہیں آتا کہ پندرہ روپے صفر سے تو بہرحال زیادہ ہیں۔وہ گریجوایٹ ہوں گے، مولوی فاضل ہوں گے، اچھے پڑھے لکھے اور عالم ہوں گے ، مگر یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آئے گی کہ صفر سے پندرہ بہتر ہیں۔حالانکہ اگر ایک خالی ہاتھ ہو اور دوسرے شخص کے ہاتھ میں گنڈیری ہو تو ایک نادان بچہ بھی فرق محسوس کرتا ہے لیکن یہ لوگ ایسے احمق ہوتے ہیں کہ دس یا پندرہ یا صفر میں فرق نہیں کرتے بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ ایک روپیہ بھی صفر سے بہتر ہے۔مجھے سینکڑوں رقعے ایسے آتے رہتے ہیں کہ تنخواہ تھوڑی ہے عیالدار آدمی ہوں کچھ سلسلہ کی طرف سے امداد مل جائے یا وظیفہ ہی مل جائے۔ان کے خیال میں سلسلہ نام ہے چند جادوگروں کا جو کیمیا بناتے ہیں۔یا اپنے احمدی ہونے کو اللہ تعالی پر احسان سمجھتے ہیں کہ تونے نبی بھیجا تو خزانہ بھی دیا ہو گا۔ایسے لوگ ایمان کو تجارت سمجھتے ہیں۔پھر بعض لوگ کام کرنا بے عزتی سمجھتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول سنایا کرتے تھے کہ ایک امیر ہندو اپنے لڑکے کو چھ پیسے سے تجارت شروع کرائے گا لیکن مسلمان نوجوان کو تجارت کیلئے کہا جائے تو وہ کہے گا لاؤ چار حالانکہ ہم نے بچپن میں خود دیکھا ہے کہ ایک شخص پہلے چھ پیسے یا دو آنے پانچ ہزار ار