خطبات محمود (جلد 15) — Page 201
خطبات محمود ۲۰۱ سال ۱۹۳۴ء سے صراحت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد بعض نبی عرب میں گذرے اور بعض مورخین نے تو حضرت شعیب کو بھی عرب کے نبیوں میں داخل کیا ہے اور تاریخ اور جغرافیہ جو اس زمانہ کا ہے، اسے مد نظر رکھتے ہوئے یہ کوئی بعید بات معلوم نہیں ہوتی کیونکہ ان حصوں میں عرب قومیں ہی بسا کرتی تھیں۔پس گو اسماعیلی تاریخ مشتبہ ہے مگر معلوم ہوتا ہے کہ بنو اسمعیل میں زندگی قائم رکھنے کیلئے اللہ تعالی کی طرف سے انبیاء آتے رہے۔مگر بنو اسحاق کی تاریخ بہت محفوظ ہے اور اس کے انبیاء کے حالات بہت عمدگی کے ساتھ بائیبل میں موجود ہیں گو نہیں کہہ سکتے کہ پوری صداقت کے ساتھ درج ہیں۔جب تک بنو اسحاق اس وعدہ کو پورا کرتے رہے خدا تعالیٰ کا وعدہ بھی پورا ہوتا رہا۔وہ ختنہ کرتے رہے اور خدا تعالی کی طرف سے ان میں انبیاء آتے رہے۔یہاں تک کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد ہم نہیں کہہ سکتے کہ کس وقت مگر بہر حال رسول کریم ﷺ سے پہلے کسی وقت چاہے پہلی صدی میں یا دوسری صدی یا تیسری صدی میں وہ عہد و پیمان جو ختنہ کے متعلق تھا انہوں نے توڑ ڈالا اس لئے یہود تو حضرت عیسی علیہ السلام کے انکار کی وجہ سے خداتعالی کے فضلوں سے محروم ہو گئے اور عیسائیوں نے ختنہ کا انکار کر کے اپنے آپ کو اس کی رحمت سے محروم کر لیا۔تب خدا تعالٰی نے بھی ان میں انبیاء بھیجنے بند کردیئے لیکن اس سے قبل سینکڑوں سال تک جب تک کہ وہ اس عہد کے پابند رہے، نعمت نبوت سے مشرف ہوتے رہے۔پس اللہ تعالیٰ کے وعدے اور معاہدے سب مشروط ہوتے ہیں۔جہاں معاہدہ ہو وہاں تو بہر حال دونوں طرف سے اقرار ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر تم یوں کرو گے تو ہم یوں کریں گے اور اگر تم نہیں کرو گے تو ہم بھی نہیں کریں گے اور جہاں وعدہ ہو، وہاں بھی شرطوں کا پورا کیا جانا ضروری ہوتا ہے۔انبیاء کی بعثت کے وقت اللہ تعالی کی طرف سے قوموں سے جو وعدے ہوتے ہیں وہ بھی اپنے اندر معاہدہ کا رنگ رکھتے ہیں۔جیسے قرآن مجید میں واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ مومنوں سے ان کی جان و مال کے بدلہ میں خداتعالی کی طرف سے جنت کا وعدہ کیا گیا ہے گویا خالی جنت کا وعدہ نہیں بلکہ معاہدہ ہے۔یعنی اگر جان و مال میری راہ میں قربان کرو گے تو ہم جنت دیں گے اور اگر نہیں کرو گے تو نہیں دیں گے اور می معاہدہ ہے جو تمام نبیوں کی جماعتوں سے ہوتا رہا ہے۔مال کی قربانی تو واضح ہے۔زکوٰۃ، صدقات اور چندوں کے ذریعہ یہ قربانی کی جاتی ہے اور ہماری جماعت میں تو خصوصیت کے