خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 198

خطبات محمود ۱۹۸ کوئی خطرہ محسوس نہ کرے۔اور وہ روپیہ محفوظ رہے۔بعض افراد کی بددیانتی ساری قوم بد نام کر دیتی ہے۔جس طرح ایک مچھلی سارے تالاب کو گندہ کر دیتی ہے۔اور ہم میں ابھی بہت ی ایسی مچھلیاں ہیں لیکن ہماری انجمنیں اس اصلاح سے غافل ہیں اور قادیان کی انجمن تو سب سے زیادہ غافل ہے۔یہاں کے ممبروں کو تو میں چکنا گھڑا سمجھتا ہوں۔وہ حکم دینا جانتے ہیں، بورڈ جھٹ لگادیتے ہیں مگر جس طریق پر کام کرنا چاہیے وہ نہیں کریں گے۔بکری کا دودھ پانچ پیسے نہیں چار پیسے ہونا چاہیئے۔اور جو اس بھاؤ نہ دے اس کا بائیکاٹ کر دیا جائے۔ایسی باتوں کی طرف زیادہ توجہ ہے مگر دوسری طرف جہاں سارے کا سارا اونٹ ہی کھایا جارہا ہو اس کی خبر نہیں۔سطحی باتوں کی طرف بہت توجہ ہے مگر حقیقی ضرورتوں سے غافل ہیں۔یہاں کام چور، بد دیانت، خائن، دھوکا باز اور ٹھگ موجود ہیں مگر ان کا کوئی فکر نہیں۔دودھ اور گھی کے بھاؤ پر لڑتے رہیں گے حالانکہ اگر دودھ چار نہیں پانچ ہی پیسے بکتا رہے تو کوئی مر نہیں جائے گا۔لیکن جن چیزوں کی موجودگی میں دنیا زندہ نہیں رہ سکتی، ان کو دور کرنے کا کوئی فکر نہیں۔اور اگر کریں گے تو اُس وقت جب کوئی اپنی غرض ہو۔پچھلے دنوں گوجرانوالہ سے مجھے خط آیا کہ یہاں یہ یہ نقص ہے۔اگر وہ سارے نقائص صحیح ہوتے تو بھی شکایت کی وجہ یہی ہو سکتی تھی کہ لکھنے والے کو سیکرٹری شپ سے علیحدہ کر دیا سب گیا تھا۔میں نے وہ خط میر محمد اسمعیل صاحب کو تحقیقات کیلئے بھیجا تو انہوں نے لکھا کہ باتیں غلط ہیں۔میں پہلے ہی معترض کو جواب دے چکا تھا کہ یہ خط شدید بغض کے نتیجہ میں لکھا ہوا ہے۔تو اصلاح کی طرف اگر توجہ کی بھی جاتی ہے تو اپنی غرض کیلئے اور ایسے رنگ میں کہ دیکھنے کرلیتا والا صاف معلوم کر لیتا ہے۔اس سے اور بھی بُرا اثر ہوتا ہے۔ہاں جب دیکھا جائے خدا کیلئے اصلاح کی کوشش ہو رہی ہے تو بہت فائدہ ہوتا ہے۔لیکن جو شکایت ذاتی غرض کے ماتحت کی جائے، اس کا اثر النا ہوتا ہے۔بعض لوگ پراویڈنٹ فنڈ سے روپیہ لینے کی کوشش کرتے ہیں اور جب ملتا نہیں تو شکایت کرتے ہیں کہ یہ لوگ سود کھاتے ہیں۔وہ نادان سمجھتے ہیں کہ اگلے بیوقوف ہیں اور انہیں کچھ پتہ ہی نہیں۔میں تو خدا کے فضل سے بات کرنے والے کے لہجہ سے بات کی تہہ کو پہنچ جاتا ہوں یہ علیحدہ بات ہے کہ عیب پوشی سے کام لیتا ہوں۔عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ جب ذاتی غرض پوری نہیں ہوتی تو اسے قومی رنگ دے دیا جاتا ہے۔اس سے اصلاح نہیں ہو سکتی بلکہ بیماری اور بھی بڑھتی ہے۔گنگار جب دیکھتا ہے کہ