خطبات محمود (جلد 15) — Page 158
خطبات محمود ۱۵۸ سال ۴۱۹۳۴ ا زینت کا موجب ہوتا ہے۔اچھے سے اچھا کام کرنے والے دنیا میں ہم ہمیشہ دیکھتے ہیں مگر کوئی ان کی اتباع نہیں کرتا لیکن جو لوگ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرتے ہیں، خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کی تقلید کرنے والے دنیا میں ہمیشہ موجود رکھے جاتے ہیں۔کون ہے جو آج کہہ سکے ، کہ میرے اعمال نپولین کے اعمال کے مطابق ہیں۔اس کی اولاد میں سے بھی اگر کوئی اس وقت موجود ہو تو وہ یہ کہنے کیلئے تیار نہیں ہوگا حالانکہ نپولین کو گزرے ابھی دو سو سال بھی نہیں ہوئے۔اس کے مقابلہ میں تیرہ سو سال گزر گئے کہ دنیا میں رسول کریم ال تشریف لائے تھے آپ کی بعثت پر جب ایک لمبا زمانہ گزر گیا تو ہزاروں لوگ ایسے کھڑے ہو گئے جو آپ کو گالیاں دینے والے اور آپ پر قسم قسم کے بہتان تراشنے والے تھے تب خدا تعالی نے ایک اور شخص کھڑا کیا اور اس نے تھوڑے ہی عرصہ میں دنیا میں ایک تغیر عظیم پیدا کر دیا۔کردیا۔لوگ بے اختیار کہنے لگ گئے واہ واہ! کیا اچھا کام کیا۔اس نے نظروں کو خیرہ کر دینے اور انسانی عقلوں کو حیرت میں ڈال دینے والے کام کئے۔اتنے مہتم بالشان کام کہ اگر وہ انہیں اپنی طرف منسوب کرتا تو وہ اس کے نام کو چار چاند لگانے اور اس کے ذکر کو بلند کرنے کیلئے کافی تھے۔مگر جب وہ لوگوں سے تعریف سنتا تو بجائے اپنا فخر ظاہر کرنے کے، کہتا ہے، یہ کام میں نے نہیں کیا، محمد ال کے روحانی فیوض اور آپ کی برکات و انوار کا نتیجہ ہے۔یہ وہ ریش اور زینت ہے جو تقویٰ اللہ کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔محمد ال نے خدا کیلئے نمازیں پڑھیں اور نپولین نے دفتر میں بیٹھ کر ملک کی بہبودی کیلئے فائلیں دیکھیں ، محمد اللہ بھی جنگ کیلئے نکلے اور نپولین بھی جنگ کیلئے نکلا، ظاہری اعمال میں ایک مشابہت نظر آتی ہے لیکن باطن میں بہت بڑا فرق ہے۔محمد ان کے اعمال میں تقوی اللہ کام کر رہا تھا اور نپولین کے کاموں میں تقویٰ اللہ نہیں تھا۔غرض تقویٰ کے متعلق يُوَارِی سَواتِكُمْ کے جو الفاظ اللہ تعالیٰ نے فرمائے، ان کا یہی مطلب ہے کہ اگر کوئی ادنی درجہ کا متقی ہو تو بھی اس کے عیب ڈھانچے جاتے ہیں اور اگر کوئی اعلیٰ درجہ کا متقی ہو تو اس کی بشری کمزوریوں کا اطناب کے ساتھ ذکر اللہ تعالیٰ کے غضب کو بھڑکا دیتا ہے۔غرض یاد رکھو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ انسانی اعمال کو ایک نیا رنگ دے دیتا ہے۔خالی نماز کوئی چیز نہیں جب تک تقویٰ اللہ اس کے ساتھ نہیں، خالی روزہ کوئی چیز نہیں جب تک تقویٰ اللہ اس کے ساتھ نہیں، خالی حج اور خالی صدقہ و خیرات کوئی چیز نہیں جب تک