خطبات محمود (جلد 15) — Page 159
خطبات محمود ۱۵۹ سال ۱۹۳۴۳ تو تقویٰ اللہ ان کے ساتھ نہیں۔جو شخص خالی نماز خالی روزے اور خالی حج کا نام تقویٰ سمجھتا ہے وہ بیوقوف ہے اور ایسے ہی بیوقوف یہ کہا کرتے ہیں کہ ہم حضرت مرزا صاحب کو کیوں مانیں کیا ہم نمازیں نہیں پڑھتے، روزے نہیں رکھتے، حج نہیں کرتے، صدقہ و خیرات نہیں دیتے۔وہ نہیں جانتے کہ نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ ایک جسم ہے اور تقویٰ اس کی روح ہے۔نماز بھی ایک جسم ہے، روزہ بھی ایک جسم ہے، زکوٰۃ بھی ایک جسم ہے، حج بھی ایک جسم ہے، صدقہ و خیرات بھی ایک جسم ہے اور تقویٰ ان تمام اجسام کی روح ہے۔جب تک۔موجود نہیں نہ يُوَارِی سَواتِكُمْ ہو سکتا ہے اور نہ رِيْشًا کا ظہور ہو سکتا ہے۔پس مومن کو اپنے اعمال میں تقویٰ اللہ پیدا کرنا چاہیے کیونکہ اس کے بغیر کوئی عمل قبولیت حاصل نہیں کر سکتا اور اگر کوئی سمجھتا ہے کہ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور صدقہ و خیرات اپنی ذات میں کوئی چیز ہیں تو وہ غلطی کرتا ہے۔کئی ایسے لوگ دیکھے گئے ہیں جو شکایت کرتے ہیں ہم نے نمازیں پڑھیں مگر کوئی فائدہ نہ ہوا روزے رکھنے مگر کوئی فائدہ نہ ہوا وہ نہیں سمجھتے کہ نماز اور روزہ ایک جسم ہے اور تقویٰ روح۔اگر تقویٰ اللہ کی روح ان کے اعمال میں کام نہیں کرتی تو ان کی نمازیں مردہ ان کے روزے مُردہ ان کی زکوۃ مُردہ ان کا حج مُردہ اور ان کا صدقہ و خیرات مُردہ ہے اور مُردہ خواہ اکلوتا بچہ ہی ہو، لوگ اسے اپنے گھر میں نہیں رکھتے بلکہ باہر دفن کر کے گھر واپس آجاتے ہیں۔بچہ کی اُسی وقت تک قدر کی جاتی ہے جب تک اس میں جان ہوتی ہے جب مرجاتا ہے تو لوگ اسے زمین میں گاڑ دیتے ہیں۔اسی طرح تم نماز کو خواہ اکلوتا بیٹا بھی قرار دے لو لیکن اگر اس میں روح نہیں تو وہ دفن کرنے کے قابل ہے، اسی طرح روزہ کو اکلوتا بیٹا قرار دے لو لیکن وہ بھی دفن کرنے کے قابل ہے اگر اس میں روح نہیں، اسی طرح زکوۃ اور حج کو اکلوتے بیٹے سے مشابہت دے لو جب تک روح موجود رہے وہ قابل قدر چیز ہوگی اور جب روح نکل گئی یا پیدا ہی نہ ہوئی تو وہ قطعاً کام کے قابل چیز نہیں جیسا کہ کوئی باپ یا کوئی ماں اپنے گھر میں مُردہ بچہ سنبھال کر نہیں رکھتی۔پس اصل چیز تقویٰ اللہ ہے۔اسی لئے دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا- يَنَالُهُ التَّقْویٰ مِنْكُمْ = - خدا تعالیٰ کے پاس اعمال نہیں جاتے بلکہ وہ روح جاتی ہے جو اعمال میں کام کر رہی ہوتی ہے۔عمل ایک مادی چیز ہے اور مادی چیز آسمان پر نہیں جاتی۔آسمان پر جانے اور خدا تعالیٰ کے قریب پہنچنے والی روحانی چیز ہوا کرتی ہے اور وہ تقویٰ اللہ ہے جس کے ساتھ