خطبات محمود (جلد 15) — Page 157
خطبات محمود ۱۵۷ سال ۱۹۴۴ء اسی طرح انسان ہزار نیکیاں کرے اگر اس کے اندر تقویٰ نہیں پایا جاتا تو وہ روحانی خوبصورتی حاصل نہیں کر سکتا۔انسانی اعمال اُسی وقت اپنے عیوب کے نقصانات سے بچ سکتے ہیں اور اپنے کمال کو ظاہر کر سکتے ہیں جب اُن کے ساتھ تقویٰ شامل ہو۔ورنہ ہزاروں انسان نیک اعمال کرتے ہیں لیکن چونکہ خدا کی نصرت ان کے شامل حال نہیں ہوتی ، ان کی کمزوریاں ظاہر ہو جاتی ہیں۔بڑے بڑے ماہرین فن جنہوں نے اپنی قوم اور ملک کی بیش بہا خدمات سرانجام دیں اور جو خدمتیں کرتے کرتے اس جہان سے گزر گئے آج ان کے عیوب لوگوں پر ظاہر ہیں۔سکندر کو لے لو یا نپولین کو یا اور کوئی بڑا فاتح اور حکمران گزرا ہو، اسے لے لو۔انہوں نے اپنے اعمال میں کمال پیدا کیا لیکن چونکہ وہ تقویٰ اللہ سے خالی تھے نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے عیوب کو چھپانے والی کوئی چیز نہ ہوئی۔انہوں نے رات اور دن اپنے ملک کی خدمت کی، ہزاروں نہیں لاکھوں کام اس کی ترقی کے سرانجام دیئے لیکن آئے دن ان کی زندگی کی دھجیاں اُڑائی جاتی ہیں اور بتایا جاتا ہے سکندر میں یہ نقص تھا نپولین میں وہ نقص تھا۔انہوں نے اپنی تمام عمریں ملک کی خدمت کرتے ہوئے گزار دیں لیکن اگر ایک لحظہ کیلئے بھی ان سے کوئی غلطی سرزد ہوئی تو لوگوں نے ان کی ساری خدمات کو نظر انداز کر دیا اور بندر کے زخم کی طرح اسے کریدتے چلے گئے۔اس کے مقابلہ میں اللہ تعالی کے جو پاک بندے ہوتے ہیں ان سے بھی اجتہادی غلطیاں ہوتی ہیں گو اللہ تعالٰی کے کامل بندے شرعی غلطیوں سے پاک ہوتے ہیں مگر باوجود اس کے دنیا میں کس کی طاقت ہوتی ہے کہ وہ ان کی اجتہادی غلطیوں کی تشہیر کرتا پھرے۔اس کی یہی وجہ ہے کہ آسمان پر ایک ہستی ہے جس کا انہوں نے تقویٰ اختیار کیا وہ ہستی انہیں کہتی ہے- لا تُبقى لَكَ مِنَ الْمُخْزِيَاتِ ذِكرات - ہم تیری زندگی کی ایسی تمام باتیں جنہیں دشمن عیب سمجھ کر ظاہر کرنا چاہے، باقی نہیں چھوڑیں گے۔اور جس قدر امور عیب کا باعث سمجھے جاتے ہیں، انہیں مٹا دیں گے۔باوجود اس کے کہ بشری کمزوریاں ایسے لوگوں سے بھی سرزد ہوتی ہیں اور نبی بھی کسی وقت ان کمزوریوں میں مبتلاء ہو جاتا ہے مگر اس پر بات کرنا اور اطناب کرنا انسان کو مورد عذاب الہی بنا دیتا ہے۔پس يُوَارِی سواتِكُمْ کے ماتحت انسان کو وہی عمل کام دیتا ہے جس میں تقویٰ شامل ہو ورنہ صرف کام کرنے والوں کے اعمال کے لوگ ٹکڑے ٹکڑے کر کے دنیا کے سامنے پیش کر دیتے ہیں اور کوئی ہستی ان کیلئے غیرت نہیں دکھاتی۔دوسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ تقویٰ انسان کیلئے بلاوجہ