خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 146

خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء کے دو ہی معنی ہو سکتے ہیں۔یا تو یہ کہ کام کرنے کی حس باقی نہیں رہی اور یا یہ کہ کام اہمیت کو نہیں سمجھا۔پس دوست اپنے اندر بیداری پیدا کریں۔ایک معمولی انسان جس نے بھیک مانگنے کی وجہ سے اپنے اخلاق کو خراب کر لیا ہو، جو سوسائٹی کیلئے کسی طرح بھی مفید نہ ہو بلکہ ایک بوجھ ہو وہ اگر مر رہا ہو تو اس کی امداد نہ کرنے والا بھی ہر شخص کی نگاہ میں کمینہ ٹھہرتا ہے۔اور جب ایسے شخص کی جان بچانے کی کوشش نہ کرنے والے کو جو دنیا کیلئے کسی نفع کا موجب نہیں، دنیا ذلیل اور کمینہ کہتی ہے تو جب ہمارے سامنے دنیا کی روحانیت مُردہ ہو رہی ہو روحانی لحاظ سے فنا ہو رہی ہو اور اسے دیکھ کر ہماری رگِ ہمدردی میں جوش پیدا نہ ہو تو یہ کتنی بڑی کو تاہی ہے۔ایک شخص ڈوب رہا ہو اور تیرنا جاننے والا اسے نہ بچائے تو دنیا میں کوئی اُسے شریف اور قابل عزت نہیں سمجھتا حالانکہ اُس ڈوبنے سے صرف جسم فنا ہوتا ہے، روح فتا نہیں ہوتی لیکن ہمارے سامنے ایسے لوگ ڈوب رہے ہیں جن کی روحانیت فنا ہو رہی ہے اور ایسی موت ان پر وارد ہو رہی ہے جس کے بعد ان کیلئے نیکی کرنے اور تباہی سے بچنے کی کوئی امید باقی نہیں رہتی مگر ہم ان کو بچانے کی ذمہ داری سے غافل رہیں تو یہ کس قدر افسوس کی بات ہوگی۔پس دوستوں کو میں پھر نصیحت کرتا ہوں کہ غفلت کو چھوڑ دیں جو عظیم الشان کام ان کے سپرد ہے، اس کی طرف متوجہ ہوں اللہ تعالی کی نعمت کی قدر کریں۔وہ بڑے بڑے اولیاء اللہ جن کے نام آج ہم عزت سے لیتے ہیں، اپنے اپنے زمانہ میں اسی حسرت میں رہے کہ کاش! ہم مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ پاتے۔باوجودیکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑے بڑے مقام دیئے تھے مگر ان کے اقوال موجود ہیں جن میں نہایت حسرت کے ساتھ اس خواہش کا اظہار پایا جاتا ہے لیکن یہ نعمت اللہ تعالی کی طرف سے ہمیں حاصل ہوئی جس کے معنی یہ ہیں کہ ہم ایسے مقام پر ہیں جو بڑے بڑے بزرگوں کیلئے قابل رشک ہے۔اس لئے ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اس عظیم الشان مقام پر ذمہ داریاں بھی عظیم الشان ہیں۔ایک ایسا شخص جو اپنے فہم اور عقل کے باعث اس نعمت سے محروم ہے، کہہ سکتا ہے کہ اے اللہ ! تو نے مجھے اتنی سمجھ ہی نہ دی تھی کہ میں ان باتوں کو سمجھ سکتا اور ان پر عمل کر سکتا مگر جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی، ان کے پاس اپنی غفلت کیلئے کوئی عُذر نہیں۔دنیا میں جتنے بڑے بڑے نبی گزرے ہیں مثلاً