خطبات محمود (جلد 15) — Page 147
خطبات محمود ۱۴۷ سال حضرت ابراہیم " ، حضرت موسیٰ ، حضرت عیسی اور پھر خود رسول کریم ﷺ سب نے مسیح موعود کے متعلق پیشگوئیاں کیں۔اور یہ عظیم الشان واقعہ جس کی تمام انبیاء خبر دیتے آئے ہیں، ہم میں ہوا اور ہم اس کو سینوں میں دبا کر بیٹھ جائیں تو یہ کس قدر خدا کی ناراضگی کا ۱۹۳ء موجب ہوگا۔پس دوستوں کو چاہیے کہ مستیاں ترک کریں اور ارادوں کو مضبوط کریں۔ارادہ کی مضبوطی ہی ایسی چیز ہے جس سے کامیابی ہو سکتی ہے۔میں نے کئی لوگوں سے سنا ہے جو ہماری جماعت سے تعلق نہیں رکھتے کہ ہم ایک دن سینما نہ دیکھیں تو رات نیند نہیں آتی۔اگر وہ لوگ سینما کے لئے ہر روز وقت کی اس قدر قربانی کر سکتے ہیں تو کیا ہم خدا کا پیغام پہنچانے کیلئے اتنا بھی نہیں کرسکتے۔لوگ ایک تصویر کو دیکھنے کیلئے پیسے خرچ کرتے ہیں، بیوی بچوں سے علیحدہ ہوتے ہیں اور وقت خرچ کرتے ہیں۔جو لوگ تبلیغ کیلئے نہیں جاتے وہ اسی وجہ سے نہیں جاتے کہ بیوی کے پاس بیٹھیں گے ، بچوں سے دل بہلائیں گے ، لیکن انہیں ان لوگوں سے سبق حاصل کرنا چاہیے جو سینما کی تصاویر دیکھتے ہیں۔اگر وہ تصاویر کیلئے اتنی قربانی کرتے ہیں تو کیا ہم خدا کیلئے ایسا نہیں کرسکتے۔ہر شخص کی کوئی نہ کوئی مجلس ہوتی ہے جہاں جاکر ادھر اُدھر کی باتیں کرتا ہے۔یہ ہر شخص کی عادت ہوتی ہے پھر ہم وہ عادت کیوں نہ ڈالیں جس سے دین بھی سُدھرے اور دنیا بھی۔میں نہیں جانتا کہ جو سکیم میں نے منظور کی تھی، اُس کے ماتحت کام ہوا ہے یا نہیں۔اگر ہوا ہے تو میرے پاس اس کی کوئی رپورٹ نہیں پہنچی اور جو کام شروع کیا گیا ہے، یہ اس سے باہر تھا لیکن پھر بھی جب کام شروع کیا گیا تھا تو دوستوں کو چاہیے تھا کہ جس طرح بھی بن پڑتا اس میں شامل ہوتے۔جو شخص بیوی بچوں سے اس لئے جُدا ہوتا ہے کہ تبلیغ کرے اور تبلیغی مجلس میں شامل ہو، اس کا یہ عمل بے فائدہ نہیں ہو گا۔اس طرح یہ بھی فائدہ ہو سکتا ہے کہ دوست معلوم کر سکتے ہیں زیادہ اثر ہوتا ہے اور انہیں کس کے پاس تبلیغ کیلئے جانا چاہیے اور اس لحاظ سے بھی ایسی مجالس میں شمولیت ضروری ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ جماعت کے دوست بالعموم اور امیر صاحب بالخصوص اس طرف متوجہ ہوں گے اور جو حکیم منظور ہوئی تھی، اس کے ماتحت کام شروع کر دیں گے۔اور جو کام بھی ہو خواہ وہ سکیم کے ماتحت ہو یا اس سے باہر اسے استقلال سے کریں گے۔قلوب اِس وقت ایسے طور پر متوجہ ہو رہے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے فرشتوں نے خاص طور پر تسلط کیا ہوا ہے۔مجھے لاہور میں ہی ایک خط ملا ہے۔گوجرانوالہ کے