خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 139

خطبات محمود ۱۳۹ سال ۱۹۳۴ء جب آپ گھر گئے تو دیکھا چھت سے رتی لٹک رہی ہے۔آپ نے پوچھا یہ رتی کیسی ہے؟ انہوں نے بتایا یہ میں نے اس لئے لٹکائی ہے کہ جب میں تہجد پڑھا کرتی ہوں تو بعض دفعہ نیند آجاتی ہے، اس رتی سے سہارا لے لیا کروں گی۔آپ نے فرمایا خَيْرُ الْأَعْمَالِ أَدْوَمُهَا يا خَيْرُ الْعِبَادَاتِ کا لفظ استعمال فرمایا۔یعنی اپنے نفس پر بوجھ وہ ڈالو جس کو ہمیشہ نبھا سکو اور ہمیشہ کیلئے جس بوجھ کے اُٹھانے کی طاقت اپنے اندر نہیں رکھتے، اُسے مت اٹھاؤ۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ اس مسئلہ کا بھی غلط استعمال کرتے ہیں۔وہ اپنی قربانی کم سے کم کرتے چلے جائیں گے اور جب اُن سے پوچھا جائے گا کہ قربانی کم سے کم کیوں کرتے ہو تو کہہ دیتے ہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے خَيْرُ الْأَعْمَالِ اَدْوَمُهَا یعنی بہتر عمل وہ ہے جس پر مداومت اختیار کی جاسکے چونکہ زیادہ قربانی پر مداومت نہیں ہو سکتی، اس لئے قربانی کم سے کم کرتے ہیں۔مگر پھر بھی انہیں اپنی حالت پر قرار نہیں ہوتا اور وہ اپنی قربانی کو اور کم کردیتے ہیں پھر اور کم یہاں تک کہ اُن کی حالت اُس شخص کی سی ہو جاتی ہے جس نے اپنے بازو پر شیر کی تصویر گدوانی چاہی مگر گودنے والا جب سوئی مارے تو کہے۔یہ عضو نہ بناؤ اس کے بغیر بھی شیر بن جائے گا۔آخر اس نے سوئی رکھدی اور کہا کسی ایک عضو کے نہ ہونے سے تو شیر کی تصویر بن سکتی ہے مگر جب شیر کا کوئی عضو بھی گودنے نہیں دیا جاتا تو شیر کیونکر بنے۔ایسے لوگ ہمیشہ اپنی کمزوری کے ماتحت قربانیوں سے بچنے کیلئے نئے رستے تلاش کرتے رہتے ہیں اور اس قسم کی احادیث سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ چونکہ قربانیوں پر دوام ضروری ہے، اس لئے قربانی میں کمی کرنی چاہیے تا اس پر دوام ہو سکے۔پھر اس میں بھی کمی کرتے جاتے ہیں حالانکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ پر کسی قربانی یا عبادت کا اتنا بوجھ نہ ڈالو جو نفس کی طاقت سے بڑھ کر ہو۔یہ مطلب نہیں کہ جتنا تمہارا بیمار نفس قربانی کرنے کی خواہش کرے، اس پر مداومت رکھو بلکہ یہ مطلب ہے کہ جتنا انسانی نفس ایک عبادت یا قربانی برداشت کرنے کی طاقت رکھتا ہے، اتنی عبادت اور قربانی کرو۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ ایک شخص کو جو مالی قربانیوں میں کمزور تھا، دوسرے نے نصیحت کی تو وہ جواب میں کہنے لگا قرآن مجید میں آتا ہے لوگ سوال کرتے ہیں خدا کی راہ میں کیا خرچ کریں۔اس کا جواب یہ دیا گیا ہے۔قُلِ الْعَفْوَت یعنی جو بچ رہے وہ خرچ کرو۔جب بچتا ہی کچھ نہیں تو خدا کی راہ میں کیا دیں۔اب اگر اس آیت کے یہی معنی لئے جائیں تو اس آیت کا یہ مطلب ہوگا کہ آجکل اسلام کیلئے کچھ بھی خرچ نہ کیا