خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 94

خطبات محمود۔سال ۱۹۳۴ء آتے کہتے کہ دتی کے کباب کھلاؤ۔شامی کبابوں کا اُس وقت پنجاب میں ایسا رواج نہ تھا اب تو کچھ کچھ ہو رہا ہے۔ہماری والدہ صاحبہ چونکہ ولی کی ہیں اس لئے وہ تیار کرواتی تھیں۔اس ہندو نے جو ایک بار کباب کھائے تو اسے پسند آئے اس لئے جب آتا ان کی فرمائش کرتا اور مسجد کے پاس والی کوٹھڑی میں چُھپ کر کھا لیتا لیکن مجالس میں آپ کے ساتھ گوشت خوری پر بحث کرتا مگر آپ نے اسے کبھی نہ جتایا کہ چُھپ کر تو تم گوشت کھاتے ہو اور باہر آکر بحث کرتے ہو۔پس مومن کو ہمیشہ نرمی دکھانی چاہیئے۔ایسے لوگ جو اس قسم کی حرکات کرتے ہیں یا تو غیر مومن ہوتے ہیں اور یا شرارتی جو اندر رہ کر جماعت کو بدنام کرتے ہیں۔یہاں جماعت کی تعلیم و تربیت کا انتظام بخوبی ہے، اس کیلئے ایک خاص محکمہ ہے، پھر مساجد میں بھی اس کا خیال رکھا جاتا ہے، خطبات میں میں سمجھاتا رہتا ہوں لیکن ان سب باتوں کے باوجود جس پر اثر نہ ہو، میں کس طرح مان لوں کہ وہ مومن ہے۔یا تو یہ ماننا پڑے گا کہ وہ مومن نہیں اور یا پھر یہ کہنا پڑے گا کہ وہ منافق ہے اس لئے اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔وہ دراصل غیروں سے ملا ہوتا ہے اور ایسی حرکات کر کے جماعت کو بدنام کرنے کی کوشش کرتا ہے جیسا کہ میں نے پچھلے جمعہ میں مثال سنائی تھی کہ کس طرح ایک شخص نے ہندوؤں کے ساتھ احمدیوں کی لڑائی کرانے کی کوشش کی تھی۔اس کے بعد میں رسول کریم ﷺ کا طریقہ عمل ایک چھوٹے سے واقعہ سے بتا دیتا ہوں کیونکہ میری صحت کے لحاظ سے اتنا ہی اس وقت مناسب ہے۔آپ ایک دفعہ مجلس میں تشریف فرما تھے کہ ایک اعرابی آیا اور آکر کہنے لگا مجھے کچھ دو۔آپ نے اسے کوئی چیز دی۔راوی کا خیال ہے کہ وہ چیز اونٹنی وغیرہ تھی۔پھر یہ معلوم کرنے کیلئے کہ آیا اس کی تسلی ہو گئی ہے یا نہیں۔آپ نے اُس سے پوچھا کہ کیا میں نے تمہارے ساتھ حسن سلوک کر دیا ہے یعنی تمہاری ضرورت پوری ہو گئی۔اس نے جواب دیا کہ حسن سلوک اور ضرورت کا پورا ہونا تو دُور کی بات ہے، آپ نے تو میرے ساتھ معمولی رواداری کا برتاؤ بھی نہیں کیا اس پر صحابہ کو غصہ آیا اور وہ اسے مارنے لگے کہ اس نے کیوں رسول کریم ﷺ کی ہتک کی ہے۔مگر آپ نے ان کو روک دیا اور اس اعرابی سے کہا کہ میرے پیچھے آؤ۔آپ اُسے الگ لے گئے اور کہا کہ تم سائل کی حیثیت سے میرے پاس آئے تھے اور میں نے تمہارے ساتھ سلوک کردیا اور پوچھا کہ میں نے تمہارے ساتھ حسن سلوک کردیا ہے؟ مگر تم نے جواب دیا کہ معمولی ا