خطبات محمود (جلد 15) — Page 93
خطبات محمود ۹۳ سال ۱۹۳۴ء جماعت کے دوستوں کو لڑائی جھگڑے سے کام نہیں لینا چاہیے بلکہ دعا اور استغفار کرنا چاہیئے۔لیکن فرض کرو کوئی شخص اپنے جوش اور جذبات کو نہیں دبا سکتا تھا تو اسے چاہیے تھا کہ جس دن وہ اُس کے گاؤں میں گیا تھا اور اُس نے اسے تنگ کیا تھا، وہیں لڑ پڑتا۔اس انتظار میں رہنا کہ وہ اکیلا میرے محلہ میں آئے گا تو اُسے پکڑوں گا یہ بالکل کتے والی بات ہے اور اتنی کمینہ حرکت ہے کہ احمدیت تو بڑی بات ہے، میں اسے انسانیت سے بھی گرا ہوا فعل سمجھتا ہوں اور مجھے اس کا اتنا احساس ہوا ہے کہ جب بھی اس کا خیال آیا، شرمندگی۔سے میرا دل گھٹنے لگ گیا کہ ہماری جماعت میں بھی ایسے ذلیل لوگ ہیں۔کسی شخص نے خواہ ہمارا کتنا بڑا قصور کیوں نہ کیا ہو جب وہ ہمارے گھر میں یا محلہ میں آجائے تو اس کے ساتھ ہمارا سلوک جدا گانہ ہونا چاہیئے۔یورپین لوگ مذہبی لحاظ سے ہمارے سخت دشمن ہیں لیکن بچپن میں میں نے ایک انگریز کی لکھی ہوئی ایک ریڈر پڑھی تھی جس میں ایک واقعہ ہسپانیہ کے مسلمانوں کے متعلق تھا۔ہسپانیہ کے مسلمانوں کے ساتھ یورپین اقوام کو خصوصیت سے عداوت تھی کیونکہ وہ مسلمان وہاں کئی سو سال تک حکومت کرتے رہے ہیں۔اس ریڈر میں ایک واقعہ لکھا تھا جو نظم و نثر میں تھا اور جسے اکثر لوگوں نے پڑھا ہو گا۔وہ یہ کہ کسی شخص نے ایک عرب کے نوجوان لڑکے کو قتل کر دیا شاہی فوج اس کے پکڑنے کیلئے اس کے پیچھے آرہی تھی قاتل بھاگتا ہوا آیا اور اسی شخص کے گھر میں داخل ہو کر پناہ کا طالب ہوا جس کے لڑکے کو وہ قتل کر آیا تھا۔وہ عرب اُسے دیکھ کر کھڑا ہو گیا اور اُس سے پوچھا کہ کیا بات ہے، اس نے کہا مجھ سے ایک خون ہو گیا ہے۔سرکاری آدمی مجھے پکڑنے کیلئے پیچھے آرہے ہیں، مجھے پناہ دو - عرب نے پوچھا تم نے کسے قتل کیا ہے، قاتل نے مقتول کا نام و نشان اور خلیہ وغیرہ بتایا۔تو اس عرب کو معلوم ہو گیا کہ یہ شخص میرے بیٹے کو قتل کر کے آیا ہے مگر پھر بھی اُس کی مہمان نوازی نے جوش مارا اور اس نے کہا میرے پیچھے آؤ وہ اُسے ساتھ لے گیا اور پچھواڑے سے نکال دیا اور جب فوج آئی تو کہہ دیا کہ یہاں تو کوئی ایسا شخص نہیں۔یہ مومنانہ شرافت ہے کہ جب قبضہ میں آئے تو اس پر رحم کیا جائے۔وہ وقت بدلہ لینے اور بہادری دکھانے کا نہیں ہوتا۔جب دشمن گھر میں، محلہ میں یا شہر میں آجائے اُس وقت مومنانہ میزبانی کا نمونہ دکھانا چاہیے خواہ کتنی مخالفت ہو۔اس وقت کسی ناگوار بات کو زبان پر نہیں لانا چاہیئے۔حضرت سیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک ہندو صاحب آپ سے ملنے آیا کرتے تھے اور