خطبات محمود (جلد 15) — Page 90
خطبات محمود ۹۰ سال ۶۱۹۳۴ اس سے وہ اس تک سزا کیوں نہیں دی گئی اپنے پاس کرسی بچھا کر آپ کو بٹھاتا اور ان کے دفتر کے سپرنٹنڈنٹ کا بیان ہے کہ وہ بٹالہ کے اسٹیشن پر ایک دفعہ گھبرا کر مل رہا تھا اور جب میں نے پوچھا کہ آپ اتنے پریشان کیوں ہیں تو وہ کہنے لگا اس مقدمہ کا مجھ پر اتنا گہرا اثر ہے کہ میں جدھر جاتا ہوں، سوائے مرزا صاحب کے مجھے کوئی اور نظر نہیں آتا اور مرزا صاحب مجھے یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ میں مجرم نہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا مقدمہ ان کے خلاف ہے، بیانات ان کے مخالف ہیں اور مجھ پر جو واقعہ گزر رہا ہے اس نے مجھے اس قدر پریشان کر رکھا اور اتنا اثر ڈالا ہوا ہے کہ میں ڈرتا ہوں، کہیں پاگل نہ ہو جاؤں۔ آج تک وہ انگریز ڈپٹی کمشنر اس واقعہ کا ذکر کرتا ہے اور ہمارے دوستوں کو جو انگلستان میں مبلغ رہ چکے ہیں اس نے بتایا کہ جب مجھ سے کوئی شخص پوچھتا ہے کہ ہندوستان کی سروس میں کوئی سب سے عجیب واقعہ سناؤ تو میں مرزا صاحب کے مقدمے کا واقعہ ہی بیان کیا کرتا ہوں۔ غرض اللہ تعالی جب قلوب کو پھیر دیتا ہے تو یہی فتح حقیقی فتح کہلاتی ہے۔ پس دلوں کو فتح کرنے کی کوشش کرو اور چاہے لوگ سختی سے پیش آئیں، ان سے ایسی محبت اور پیار کا ر کا سلوک کرو کہ آخر و کے نتیجہ میں ہماری جماعت میں شامل ہو جائیں۔ باقی جو لوگ فساد ڈلوانا چاہیں، تمہیں سمجھ لینا چاہیے کہ وہ منافق ہیں کیونکہ جب خلیفہ وقت ایک امر کی طرف توجہ نہیں کرتا تو جو لوگ شور مچا رہے ہوں یا تو سمجھو کہ وہ قومی خادم ہیں اور خلیفہ کے دل میں تمہاری کوئی ہمدردی نہیں اور یا پھر ان کو بیوقوف یا منافق سمجھو۔ اور اگر تم سمجھتے ہو کہ اصل ہمدردی خلیفہ وقت کے دل میں ہی ہو سکتی ہے تو کیوں تم نے کبھی خیال نہیں کیا کہ ایسے موقعوں پر ہمیشہ کمزوروں کو ہی کیوں جوش آتا ہے، کیوں خلیفہ وقت کو جوش نہیں آتا۔ اس سے بھی معلوم ہو سکتا ہے کہ ان کا جوش کسی اخلاص کی وجہ سے نہیں بلکہ منافقت اور جماعت میں فساد ڈلوانے کی نیت ہے ہے۔ پس میں ایک دفعہ پھر جماعت کو ہوشیار کرتا ہوں کہ یہ ایام ابتلاء ہیں۔ ان میں نیک تدبیروں دعوتِ خیر اور دعاؤں سے کام لینا چاہیے- اللہ تعالی ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنے فرائض کو سمجھیں۔ اور یہ یقین رکھیں کہ جس کو خدا تعالی نے سمجھانے اور ہدایت دینے کا کام سپرد کیا ہے وہی اصل خیر خواہ ہے نہ کہ شرارت کرنے والے۔ اور ایسا نہ ہو کہ جس کو خدا تعالی نے معلم بنایا ہے اُس کی بات کو ہم ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیں۔ (الفضل ۱۸- مارچ ۱۹۳۴ء)