خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 84

خطبات محمود ۸۴ سال ۱۹۳۴ء ا نے آکر روکا۔وہ ادھر بنانے پر اصرار کرتے رہے، وہ افسر روکنے پر اصرار کرتا رہا۔آخر ان لوگوں نے اور ان کے ساتھ سنا گیا ہے پولیس نے تاریں دے دیں اور رپورٹ کردی کہ احمدی ہمیں اپنی زمین پر مکان نہیں بنانے دیتے۔اور جھٹ یکے بعد دیگرے افسر تحقیقات کرنے کیلئے آنے لگے اور انہوں نے زور دینا شروع کیا کہ اس طرح احمدی جماعت کی بدنامی ہوتی ہے۔سمال ٹاؤن کمیٹی کو خاص اجلاس کر کے منظوری دے دینی چاہیے حالانکہ اس معاملہ میں نہ جماعت کا کوئی تعلق تھا اور نہ تعلق ہو سکتا تھا۔ایک سرکاری محکمہ کام کرتا ہے بعض شرارتی اسے شرارت سے جماعت کی طرف منسوب کرتے ہیں اور بعض محکام اسے وہی رنگ لیکن دینے لگ جاتے ہیں۔صرف اس وجہ سے کہ قادیان کی کمیٹی میں احمدی ممبر زیادہ ہیں۔بعض دوسری جگہوں پر ہندو، سکھ اور حنفی ممبر زیادہ ہوتے ہیں، کیا ان جگہوں پر کمیٹیوں کے کاموں کیلئے ان مذہب کے مرکزی اداروں کو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے اور ان کو بدنام کیا جاتا ہے؟ حصہ اگر یہی بات ہے تو حکومت کو کمیٹیاں بنانے کی کیا ضرورت ہے۔ایسی کمیٹیاں بنانا جن کو اپنے اختیار جائز طور پر بھی استعمال کرنے کی اجازت نہ ہو اور جن کے جائز احکام کے نفاذ پر حکومت کو فکر پڑ جائے، ان کو تو اُڑا دینا اچھا ہے کیونکہ ان کے قیام سے خواہ مخواہ لوگوں کو دھوکا لگتا ہے۔تعجب ہے سمال ٹاؤن کمیٹی ایک قانون کا نفاذ کرتی ہے اس قانون کا جو خود گورنمنٹ نے بنایا ہے اور جس پر عمل کرانے کی اس سے امید کی جاتی ہے مگر حکام ہیں کہ محض اس وجہ سے کہ احراری کہیں شور نہ مچائیں ، خواہ مخواہ خائف ہو رہے ہیں۔ادھر جماعت کے دوستوں کا ایک۔ہے کہ وہ خائف ہو رہا ہے کہ احراریوں کی ڈیڑھ مرلہ کی مسجد بن جائے گی تو کیا ہو جائے گا۔میرے نزدیک دونوں کا رویہ خلاف عقل ہے۔وہ گورنمنٹ بھی اپنے فرائض کو ادا نہیں کرتی جو سمال ٹاؤن کمیٹی کے کام کو احمدیوں کی طرف منسوب کر کے اس میں دخل دینا چاہتی ہے اور اس طرح قانون شکنی کی روح پیدا کرتی ہے اور جماعت کے وہ لوگ بھی جو اس مسجد کے بننے پر گھبراتے ہیں، بزدل ہیں۔احراری یہاں ایک کیا دس مسجدیں بنالیں، میرے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں۔آریوں نے یہاں ایک دفعہ جلسہ کرنے کی تجویز کی۔ان کے بعض لیکچرار مجھ سے ملنے آئے اور میں نے ان سے کہا کہ آپ کہیں اور جلسہ کیوں کرتے ہیں ہماری مسجد موجود ہے، یہاں جلسہ کریں۔وہ کہنے لگے کیا آپ اپنی مسجد میں