خطبات محمود (جلد 15) — Page 83
خطبات محمود ۸۳ سال ۱۹۳۴ء میں نے ذکر کیا ہے جب خبر پھیلی تو ایک شخص نے نہایت غصہ سے مجھے لکھا کہ ناظر امور عامہ غافل ہے یہاں اندھیر بیچ رہا ہے احراری مسجد بنا رہے ہیں مگر کوئی اس کے انسداد کی فکر نہیں کر تا مگر دو چار دن کے بعد جب اسے اپنی حماقت محسوس ہوئی تو اسے خیال آیا کہ میں جو لکھ چکا ہوں کہ قادیان میں سب مجرم ہیں کیونکہ وہ خاموش بیٹھے ہیں اور مخلص صرف میں ہی ہوں جسے جوش آرہا سے اس کا اثر دور کرنا چاہیے۔چنانچہ اُس نے مجھے ایک اور خط لکھا کہ میری رائے تو یہی ہے کہ ہمیں اس معاملہ پر کوئی شور مچانا نہیں چاہیے گویا اس نے سمجھ لیا کہ میرا حافظہ اتنا کمزور ہے کہ میں اس کے پہلے رقعہ کو بھول گیا ہوں گا حالانکہ پہلا رقعہ اس کا یہ تھا کہ یہاں کے تمام لوگ غافل اور غدار ہیں۔احراریوں کی مسجد بن رہی ہے اور انہیں کوئی فکر نہیں لیکن تیسرے چوتھے روز ہی اس نے لکھا کہ میری رائے تو یہی ہے کہ ہمیں اس پر شور نہیں بچانا چاہیئے۔گویا ہم تو چاہتے تھے کہ شور مچایا جائے مگر اس کا یہ مشورہ ہے کہ شور نہ مچایا جائے حالانکہ نہ اس کے پہلے رقعہ کی وقعت میرے نزدیک ایک پھٹے ہوئے چیتھڑے جتنی تھی اور نہ دوسرے کی۔اس میں شبہ نہیں دشمن ہے اور بڑا خطرناک دشمن ہے اسے جھوٹ اور کذب بیانی سے پر ہیز نہیں اور جب بھی وہ کوئی افتراء پردازی کرتا ہے، کمزور لوگ یا منافق کہنے لگ جاتے کہ اس میں کچھ تو بات ہوگی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم گھبرا جاؤ۔تم نے جو کچھ کرنا ہے تمہیں چاہیے کہ صبرو استقلال سے کرو اور اس کا طریق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکو دعا کرو اور اس سے کہو کہ اے خدا! اگر یہ دشمنوں کی شرارتیں ہماری خطاؤں کا نتیجہ ہیں تو ہمیں معاف فرما اور اگر یہ ترقیات کا پیش خیمہ ہیں تو وہ ترقیات ہمیں جلدی عطاکر کیونکہ ابتلاء دو ہی غرض کیلئے آیا کرتے ہیں، یا سزا کیلئے یا انعام کیلئے۔اگر یہ ابتلاء بطور سزا ہیں تو اللہ تعالٰی ہمیں معاف کرے اور اگر بطور انعام ہیں تو وہ انعام ہمیں نصیب فرمائے۔میں قادیان والوں کو خصوصیت سے توجہ دلاتا ہوں کہ ان کے ہر فعل کو دشمن عجیب رنگ میں دنیا کے سامنے پیش ہے پس انہیں زیادہ محتاط رہنا چاہیئے۔ابھی یہاں احراریوں کی مسجد جب بننے لگی تو سمال ٹاؤن کمیٹی جسے قانون کے ماتحت حکومت دی گئی ہے اور جسے اختیار دیا گیا ہے کہ جب تک وہ کسی عمارت کے نقشہ کی منظوری نہ دے، اُس وقت تک کوئی عمارت نہ بنائی جائے۔چونکہ یہ لوگ بغیر اس سے منظوری حاصل کئے، عمارت بنانے لگے تھے، کمیٹی کے ایک افسر ہیں کرتا کا