خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 55

خطبات محمود ۵۵ سال ۱۹۳۴ء ہم یہ تسلیم کر سکتے ہیں کہ ایک انسان اپنے مقام کے لحاظ سے صفات الہیہ کو کامل طور پر ظاہر کر رہا ہو جس طرح ایک تیز نگاہ والا انسان اگر دو میل کے فاصلہ سے ایک چیز کو اس طرح دیکھ لے جس طرح اتنے فاصلہ سے اسے دیکھا جاسکتا ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کی آنکھ میں اس چیز کا پورا نقشہ آگیا لیکن جب ہم یہ کہیں گے تو اس کے یہ معنی نہیں ہوں گے کہ چیز کا اصل نقشہ پوری طرح اس کی آنکھ میں آگیا بلکہ یہ ہوں گے کہ دو میل کے لحاظ جس قدر نقشہ آسکتا تھا وہ آگیا۔اب اگر وہی چیز ڈیڑھ میل کے فاصلہ پر آجائے تو آنکھ اسے پہلے سے زیادہ نمایاں صورت میں دیکھے گی۔مگر دو میل والی حالت ناقص نہیں کہلائے گی کیونکہ اس کے لئے اتنا ہی امکان تھا۔پس اگر اصل چیز دیکھی جائے گی تو اس کے لحاظ سے آنکھ کا یہ نقص ہوگا کہ وہ اسے پورے طور پر نہ دیکھ سکی۔اور اگر یہ دیکھا جائے گا کہ ڈیڑھ یا دو میل کے فاصلہ سے جس حد تک آنکھ دیکھ سکتی تھی اس قدر اُس نے دیکھ لیا تو یہ آنکھ کا کمال ہوگا۔یہی حال استغفار کا ہے۔انبیاء اپنی ذات میں کامل ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالی کے جلال اور جبروت کو دیکھ کر وہ مزید ترقیات کی خواہش کرتے ہیں۔گویا استغفار ان کے کسی نقص پر دلالت لحاظ پرو ہو نہیں کرتا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے مقابلہ میں ہوتا ہے۔مثلاً ایک کنواں کو ہاتھ گہرا ہے اگر کوئی شخص اُس سے پانی نکالتا ہے تو اسے یقینا کچھ دیر لگے گی لیکن اگر وہ پوری انسانی طاقت سے کام لے کر اتنی جلدی پانی نکال لیتا ہے جس حد تک جلدی نکالا جاسکتا ہے تو اس سے وہ کامل ہوگا۔لیکن اگر دوسرا شخص ایک اور کنویں سے جو پچاس ہاتھ گہرا ہو زیادہ جلدی پانی نکال لیتا ہے تو پانی جلدی نکلنے کے لحاظ سے پہلے میں نقص سمجھا جائے گا مگر یہ حالات کی طرف منسوب ہوگا۔یہی چیز ہے جس کی وجہ سے انبیاء علیهم السلام یا وہ صلحاء و اولیاء جو اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں آجاتے ہیں، خواہ وہ ابتدائے عمر میں اس کی حفاظت میں آجائیں یا آخر عمر میں استغفار کرتے ہیں۔یہ استغفار اُن کی غفلتوں کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ حالات کے لحاظ سے ہوتا ہے کیونکہ جب وہ خدا تعالی کی بلند ترین شان کو دیکھتے ہیں تو اُس کی عظمت و شان کے مقابلہ میں اپنے آپ میں نقص محسوس کرتے اور استغفار کرتے ہیں۔جس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ خدا کے اور زیادہ قریب ہونا چاہتے ہیں۔کنواں اگر سو ہاتھ گہرا ہو اور کوئی انسان اُس کی تہہ تک پہنچنا چاہے تو وہ پہنچ سکتا ہے۔اگر ایک وقت سو ہاتھ ہو تو دوسرے وقت جبکہ انسان کنویں میں اُتر رہا ہو توے پھر اسی اور پھر ستر ہاتھ رہ جائے گا۔یہاں