خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 54

خطبات محمود ۵۴ L سال ۱۹۳۴ء سالکین کو روحانی مراتب کے حصول کے متعلق ایک اہم مدایت فرموده ۲۳ فروری ۱۹۳۴ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔میں نے غالباً پچھلے سے پچھلے جمعہ میں معاملات کی درستی کے متعلق ایک خطبہ پڑھا تھا اور اس میں خصوصیت کے ساتھ ان لوگوں کو توجہ دلائی تھی جنہوں نے میری تحریک کے مطابق اس امر پر آمادگی کا اظہار کیا کہ وہ اپنی بھی اصلاح کریں گے اور جماعت کے دوسرے افراد کی اصلاح کی کوشش بھی کریں گے۔اسی بارے میں میں آج بعض مزید باتیں بیان کرنی چاہتا ہوں۔تکمیل یا کمال ایک ایسا لفظ ہے کہ ان دونوں کا مفہوم ہمیشہ نسبتی رنگ میں ہوا کرتا ہے اور گو ہر حقیقت جو ہم جانتے ہیں یا ہر لفظ جس کا ہمیں علم ہے نسبتی ہی ہوتا ہے مگران الفاظ کے متعلق خصوصیت کے ساتھ یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ یہ نسبتی امور ہوتے ہیں۔اور ایک چیز جو اپنے سے ادنی چیز کی نسبت اعلیٰ ہوتی ہے، وہ اپنے سے اعلیٰ چیز کی نسبت ناقص ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی کے حضور بڑے سے بڑا انسان خواہ وہ نبی یا رسول ہی کیوں ہو، اپنی کمزوریوں پر استغفار کرتا ہے۔ایک نادان اور بیوقوف شخص استغفار کو اپنی حالت پر قیاس کرکے قابل اعتراض قرار دیتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ استغفار اللہ تعالی کی ذات کے مقابلہ میں ہوتا ہے۔کمال کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ روحانی اور مذہبی زبان میں کمال کے معنی یہ ہوا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفات انسان کے آئینہ قلب میں منعکس ہو جائیں۔اور نقص کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے انعکاس میں کمی آجائے یا کمی باقی رہ جائے۔