خطبات محمود (جلد 15) — Page 523
خطبات محمود ۵۲۳ سال ۱۹۳۴ء ہے کہ اس سے خیر ہی خیر ظاہر ہو۔ اور وہ غیبت، چغلی، لڑائی جھگڑے سے بچتا رہے۔ اس طرح اس حد تک خدا تعالی سے مشابہت پیدا کر لیتا ہے جس حد تک ہو سکتی ہے اور یہ ایک ظاہر بات ہے کہ ہر چیز اپنی مثل کی طرف دوڑتی ہے۔ فارسی میں مشہور ہے۔ کند ہم جنس باہم جنس پرواز - حضرت محی الدین ابن عربی نے لکھا ہے کہ میں ایک دفعہ ایک ضروری کام کیلئے کہیں جا رہا تھا کہ ایک کوے اور ایک کبوتر کو اکٹھے بیٹھے دیکھا۔ میں حیران ہوا کہ ان کا آپس میں کیا جوڑ ہو سکتا ہے۔ اگرچہ مجھے ضروری کام تھا مگر اسے کسی اور کے سپرد کر دیا اور خود یہ معلوم کرنے کیلئے وہیں بیٹھ گیا ہر شخص اسے نہیں سمجھ سکتا مگر یہ ہے صحیح جو کچھ انہوں نے لکھا وہ لکھتے ہیں میں نے اس کام کو سورۃ فاتحہ کے سپرد کر دیا اور خود وہیں بیٹھا رہا جب وہ دونوں اُڑے تو میں نے دیکھا کہ دونوں لنگڑے تھے۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ دونوں مل کر بیٹھے تھے۔ تو مشابہت آپس میں تعلق پیدا پیدا کر دیتی ہے۔ اور جو انسان خدا جیسا بننے کی کا ابنے کی کوشش کرے، خدا تعالیٰ اسے ہلاک اور برباد ہونے سے بچاتا اور اس کا محافظ ہو جاتا ہے۔ پس روزہ کا ایک روحانی فائدہ یہ ہے کہ انسان کا خدا تعالیٰ سے اعلیٰ درجہ کا اتصال ہو جاتا ہے اور اللہ تعالی خود اس کا محافظ بن جاتا ہے۔ جسمانی طور پر یہ فائدہ ہوتا ہے کہ انسان میں قربانی کا مادہ غریبوں کی ہمدردی کا مادہ تکالیف کی برداشت کا مادہ پیدا ہوتا ہے۔ انسان کے پاس کھانے پینے کی چیزیں ہوتی ہیں مگر وہ کھاتا نہیں اس لئے کہ خدا نے منع کیا ہے اور چیز میسر ہوتے ہوئے اسے خود استعمال نہ کرنے بلکہ دوسروں کیلئے استعمال کرنے سے ہی قربانی کا مادہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اور یہ قومی ترقی کا ایک بڑا گھر ہے کہ انسان اپنی چیزوں سے دوسروں کو فائدہ پہنچائے۔ تمام قسم کی قومی تباہیاں اس وقت آتی ہیں جب کسی قوم کے افراد میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ ان کی اپنی چیزیں انہی کی ہیں، دوسروں کا اس میں کوئی حق نہیں ہے اور ان سے فائدہ اٹھانے کا حق انہی کو ہے جن کو دی گئی ہیں۔ غور کرو خدا تعالیٰ نے جس کو اچھی صحت دی ہو اسے اچھی بھوک لگتی اور اچھی نیند آتی ہے، وہ اگر اپنے کسی عزیز بیمار سے کہے کہ میں ان چیزوں کو کیوں استعمال نہ کروں اور کیوں ان سے فائدہ نہ اٹھاؤں جب خدا نے مجھے دی ہیں اور اس طرح بیمار کو تڑپتا چھوڑ کر اس کے رشتہ دار سو جائیں، کیسا برا نتیجہ نکلے گا اور اس گر کو کہ جسے کوئی چیز حاصل ہو، اسی کو اس سے فائدہ اٹھانے کا حق ہے اگر صحیح مطور پر استعمال کیا جائے تو کتنی بڑی مصیبت دنیا میں آجائے۔ زمیندار اس گھر کو